ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی تو پیدل لانگ مارچ کریں گے، جمہوری وطن پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر ابراہیم لہڑی ایڈووکیٹ ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات میر شمس کرد نے ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ کیلئے لانگ مارچ میں شرکت کے لئے سندھ سے آنے والے پارٹی ورکروں اور قافلوں کو روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان حکومت جان بوجھ کر سیاسی جماعتوں اور عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم کرنے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے اگر لانگ مارچ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے دیگر ساتھیوں جواد ہزارہ، چوہدری نوید احمد، رؤف بابر، سید نیاز آغا، ندیم کاکڑ، سید فیصل شاہ اور دیگر کے ہمراہ بگٹی ہاؤس کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا میر ابراہیم لہڑی نے کہا کہ پارٹی کے صوبائی صدر سابق صوبائی وزیر نوابزادہ گہرام بگٹی نے بلوچستان میں اسیر خواتین ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، سمی دین بلوچ ، بیبو بلوچ اور دیگر اسیران کی رہائی کیلئے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا عدم رہائی پر لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جو ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ کیلئے شروع ہونا تھا الٹی میٹم کے بعد سندھ حکومت نے سمی دین بلوچ کو رہا کردیا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور لانگ مارچ کا آغاز 72 گھنٹے گزرنے کے بعد 4 اپریل کو شروع ہونا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اس سے قبل حکومت نے ہمارے آئینی حق کو سبوتاژ کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے سوئی ڈیرہ بگٹی میں پیٹرول پمپس کو سیل کرکے گاڑیوں اور دیگر گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کرکے لوگوں کو حراساں کرنا شروع کردیا اور لانگ مارچ کو روکنے کے لئے تمام جائز ناجائز حر بے استعمال کئے جارہے ہیں اور پارٹی کے لانگ مارچ میں شرکت کیلئے کراچی اور اندرون سندھ سمیت دیگر علاقوں سے آنے والے کارکنوں کی کثیر تعداد کو ڈیرہ بگٹی آنے سے روک کر ہراساں کیا جارہا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور سندھ حکومت ایسے اقدامات سے گریز کریں اس طرح کے اقدامات کرکے 2006ءکے سوئی ، ڈیرہ بگٹی میں حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس وقت سوئی ڈیرہ بگٹی میں کرفیو کا سماں ہے ہم موجودہ حکومت اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کو بتانا چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ آج شیر وطن نواب اکبر خان بگٹی کے قلعے سے ہوگا۔ کیونکہ ہماری جماعت سیاسی ہے ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم ایسے گھناؤنے اقدامات کے خلاف احتجاج کریں اور عوام کا ساتھ دیں جمہوری وطن پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں جس کی تاریخ گواہ اور پارٹی کے صوبائی صدر نوابزادہ گہرام بگٹی کی قیادت میں یہ عمل شروع ہوگا اگر روکنے کی کوشش کی تو پیدل لانگ مارچ کریں گے اور جہاں پر روکا وہی پر دھرنا دیں گے کیونکہ ہمارے قائد شہید نواب اکبر بگٹی نے سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والی خاتون کی عزت کیلئے اپنی جان قربان کی اگر لانگ مارچ پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بی این پی کے لانگ مارچ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سردار اختر مینگل کے بلوچ خواتین کی رہائی کے ایک نکاتی ایجنڈے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تمام قومیتیں جن میں بلوچ، پشتون ، پنجابی، سندھی، سرائیکی اور دیگر اقوام آباد ہیں اور یہ تمام قومیں ہماری جماعت کا حصہ ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ منتخب نمائندہ نہیں بلکہ ہمارا مینڈیٹ چوری کرکے اس منصب پر بیٹھا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں