غیرت اور قتل
غیرت کے نام پر قتل اس خطے میں کوئی غیرمعروف المیہ نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے ایک ایسا سماجی سانحہ جسے روایت، مذہب، اور مقامی اقدار کی آڑ میں "جواز” عطا کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو، جس میں ایک لڑکی کو بےدردی سے قتل کیا گیا، نے نہ صرف عوامی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے بلکہ ہمیں اس خونی روایت کے پسِ پردہ موجود طاقت کے نظام پر غور کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک انفرادی ظلم نہیں بلکہ پدرشاہی نظام کے اُس پرتشدد چہرے کی نمائندگی کرتا ہے، جو عورت کے وجود، اس کی آزادی، اور اس کی خودمختاری کو مسلسل مجروح کرتا ہے۔
یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ "غیرت” کا تصور ہمارے معاشرتی شعور میں مردانگی، اختیار اور قبائلی نظم کا مترادف بنا دیا گیا ہے۔ عورت کو خاندان کی عزت کا نشان، اور اس کے اعمال کو خاندان کے وقار کا پیمانہ گردانا جاتا ہے۔ یوں ایک فرد کی ذاتی زندگی، مرضی، اور آزادی کو اجتماعی سطح پر قابو کرنے کے لیے "غیرت” کا بیانیہ استعمال ہوتا ہے۔ فیمینسٹ تھیوری اس بیانیے کو محض ایک ثقافتی علامت نہیں بلکہ ایک سیاسی آلہ قرار دیتی ہے — ایسا آلہ جو عورت کی شناخت کو قابو میں رکھنے، اس کی جنسیت کو منظم کرنے، اور اس کی زندگی کو مرد کے اختیار میں دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔
غیرت کے نام پر قتل کے اعداد و شمار خود اس خوفناک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ہر سال سینکڑوں خواتین اس نام نہاد "غیرت” کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر کیسز میں مجرم کو نہ سزا ملتی ہے اور نہ سماجی تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے میں موجود وہ خامیاں ہیں، جن کی آڑ میں قاتل "قصاص و دیت” کے تحت معاف ہو جاتا ہے، بالخصوص جب قاتل خود باپ، بھائی یا شوہر ہو۔ ریاست کے لیے یہ صورتحال محض ایک عدالتی پیچیدگی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔
یہ سوال بھی توجہ طلب ہے کہ جب قانون، معاشرہ اور میڈیا تینوں "غیرت” کے نام پر عورت کو قتل کرنے کو کسی نہ کسی صورت میں جواز یا نرم رویہ دیتے ہیں، تو عورت کے لیے تحفظ کس دروازے سے آئے گا؟ سوشل میڈیا پر مہمات، ٹویٹر ہیش ٹیگز اور وقتی مذمت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب تک یہ مزاحمت ساختیاتی تبدیلی کا محرک نہ بنے، تب تک غیرت کے نام پر قتل ایک معمول کے سانحے کی صورت باقی رہے گا۔
فیمینزم اس صورتحال کو انفرادی مسئلہ نہیں مانتا بلکہ ریاستی، عدالتی اور معاشرتی نظام میں موجود ان پدرشاہی ڈھانچوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے، جو عورت کو مکمل انسان تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ جب عورت کے جسم کو کسی مرد کی ملکیت سمجھا جائے، اور اس کی آزادی کو "بے راہ روی” سے تعبیر کیا جائے، تو اس کی جان لینا محض ایک "اصلاحی عمل” بنا دیا جاتا ہے۔
اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف محض ہمدردی کی نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہتی تحریک کی بنیاد رکھی جائے — ایسی تحریک جو نہ صرف انفرادی مزاحمت کو آواز دے بلکہ قانونی اصلاحات، میڈیا کے بیانیے، تعلیمی نصاب اور سیاسی پالیسی میں بھی واضح تبدیلی کا مطالبہ کرے۔ ہمیں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو "غیرت” کو ایک سماجی جبر کے طور پر شناخت کرے، نہ کہ کسی ثقافتی عظمت کے طور پر۔
یہ تحریک محض عورتوں کے تحفظ کی نہیں، بلکہ ایک انسانی وقار کی تحریک ہے۔ ایک ایسی دنیا کے لیے جدوجہد جس میں عزت، شرف اور غیرت کے مفاہیم کو انسانی زندگی کی قدر کے ساتھ جوڑا جائے نہ کہ موت کے ساتھ۔


