مارچ ہو کر رہے گا اسلام آباد جانے کیلئے پاسپورٹ بناکر ویزہ کے ذریعے جانا نہیں چاہتے، مولانا ہدایت الرحمان
ویب ڈیسک : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے لانگ مارچ کوعزت دی خدمت کیاجبکہ مریم نوازاوراس کے چچانے کوئی عزت نہیں دی انتظامیہ نے ایک پرامن مارچ کا راستہ روک کر اس کو پر تشدد بنانے کی گھٹیا حرکت کی ہے۔ قافلے کا راستہ روکنا امن کا راستہ روکنے کے مترادف ہے۔ مارچ توہوکررہےگااسلام آباد جانے کاراستہ کیوں بندکیاگیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہورمیں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ ہم بلوچستان کے عوام کیلئے جائزحقوق مانگتے ہیں اسلام آباد جائے کیلئے ہم پاسپورٹ بناکر ویزہ کے ذریعے جانانہیں چاہتے بلوچستان کے بارڈرکھول کربلوچستان کے عوام کیلئے قانونی تجارت کے دروازے کھول دیے جائے لاپتہ افرادکوبازیاب مسخ شدہ لاشیں پھینکنے سے گریزکیاجائے۔جمہوریت کے نام نہاد چمپیئن نے ہمیں اسلام آباد سے رکھواکرمیرجعفر کاکرداراداکیایہ حکمران جب خوداپوزیشن میں ہوتے ہیں تولانگ مارچ حق سمجھتے ہیں جب حکومت میں آجائے ہیں توپھرلانگ مارچ جمہوری احتجاج کاحق نہیں دیتے۔5دن سے لانگ مارچ جاری ہے۔رکاوٹوں کے باوجود صوبہ کے حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی اسلام آباد ضرورپہنچیں گے لانگ مارچ کولاہور میں لاہوریوں کیساتھ جماعت اسلامی کے قائدین نائب امیر لیاقت بلوچ،سیکرٹری جنرل امیر العظیم و دیگر قائدین نے کاروان کے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔جماعت اسلامی لاہور کی قیادت اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔قائدین جماعت نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا پنجاب حکومت کی جانب سے حقوق بلوچستان لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے باوجود لانگ مارچ اپنی منزل اسلام آباد ضرور پہنچے گا۔ پنجاب کے عوام بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہیں۔جب پرامن آوازیں دبائی جائیں گی تو اس کا مطلب یہ لیا جائیگا کہ حکمران خود انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔لانگ مارچ میں ہزاروں افراد شریک ہیں جن کا پنجاب کے مختلف مقامات پر والہانہ استقبال کیا جارہاہے۔ تاہم حکومت اور سرکاری مشینری کی جانب سے بعض مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے لانگ مارچ کے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے سرحدیں کھول کر35لاکھ بے روزگار کیے گیے افراد کو روزگار وقانونی کاروبارکاموقع دیاجائے۔سی پیک سیندک ریکوڈک کے ثمرات اہل بلوچستان کودیے جائے۔ صوبہ میں طاقت کااستعمال،فوجی آپریشن بندکرکے سیکورٹی فوج وایف سی کے بجائے پولیس ولیویزکے سپرد کی جائے۔ساحل کوٹرالرمافیزسے نجات دلاکر ماہی گیروں کوبے روزگاری سے نجات دیں۔بلوچستان کے نوجوانوں کوکھیل وروزگاروتعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں منشیات، اسلحہ ودہشت گردی سے نجات دلائی جائے


