ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات، یوکرین میں جنگ بندی معاہدے پر پیش رفت نہ ہوسکا
ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوٹن نے اپنی اہم ملاقات میں یوکرین کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں کی، دونوں رہنماؤں نے چند نکات پر اتفاق اور دوستانہ تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے کی بات کی، لیکن جنگ بندی کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 3 گھنٹے تک معاونین کے ساتھ بات چیت کے اچانک خاتمے کے بعد ٹرمپ اور پیوٹن نے گرم جوش کلمات کہے، لیکن صحافیوں کے سوالات نہیں لیے، جو کہ میڈیا کے شوقین امریکی صدر کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ہم ابھی وہاں تک نہیں پہنچے، لیکن ہم نے پیش رفت کی ہے، جب تک مکمل معاہدہ نہ ہو، کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے، انہوں نے اس ملاقات کو ’انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ کئی نکات پر اتفاق ہو گیا ہے، لیکن کوئی تفصیل نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ چند نکات باقی ہیں، زیادہ اہم نہیں ہیں، البتہ ایک سب سے زیادہ اہم ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کے اہم رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے بعد خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماسکو جنگ کو جلدی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق الاسکا سربراہی اجلاس کے بعد یورپی کمیشن کی نائب کاجا کالاس نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ کا امن معاہدہ حاصل کرنے کا عزم انتہائی اہم ہے، یورپی یونین اور ہمارے یورپی شراکت داروں نے الاسکا اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کام کیا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ روس کا اس جنگ کو جلد ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیین نے ایکس پر لکھا کہ الاسکا میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ۔ یورپی یونین، صدر زیلینسکی اور امریکا کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے کام کر رہی ہے، مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں جو یوکرینی اور یورپی بنیادی سیکیورٹی مفادات کا تحفظ کریں، ضروری ہیں۔اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ایک بیان میں کہا کہ آخر کار یوکرین میں امن پر بات چیت کے لیے ایک امید کی کرن روشن ہوئی ہے، اٹلی اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے اوسلو میں صحافیوں کو بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وہی پرانے دلائل دہرائے، مثلا جنگ کی نام نہاد ’بنیادی وجوہات‘ پر زور دینا، جو دراصل یوکرین پر غیر قانونی حملے کا روسی جواز ہے۔ہمارا مؤقف واضح ہے، ضروری ہے کہ ہم روس پر دباؤ برقرار رکھیں بلکہ اسے مزید بڑھائیں تاکہ روس کو یہ واضح پیغام ملے کہ اسے ِاس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا کہ میں امریکا اور یورپ کی طرف سے یوکرین کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کے عزم کا خیرمقدم کرتا ہوں، یہ ایک اہم پیشرفت ہے اور پیوٹن کو مزید جارحیت سے روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایکس پر لکھا کہ ہم صدر ٹرمپ اور صدر زیلینسکی کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ اپنے مفادات کو اتحاد اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ محفوظ بنا سکیں، فرانس یوکرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔


