جوہری پالیسی سے دستبردار نہیں ہوسکتے، آبنائے ہرمز سے دشمن کے بحری جہاز گزرنے نہیں دیں گے، ایران
تہران (این این آئی) ایرانی پارلیمنٹ نے اس بات کو مسترد کر دیاہے جسے اس نے مغربی ہدایات کی پالیسی یا جوہری پروگرام سے دستبرداری قرار دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ فرانس جوہری تنازعے سے آگے بڑھ رہا ہے اور ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے ایران کو اس کی طاقت سے محروم کرنے کی کوششوں پر تنقید کی گئی۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے آج آبنائے ہرمز سے دشمنانہ بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندیاں عائد کرنے کے امکان کا اشارہ دیا۔ ایرانی رہنما علی خامنہ ای کے نمائندے نے بتایا کہ خطرے اور جنگ کی صورتحال میں ملک کے مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام قومی ذرائع استعمال کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے جو دشمن کے بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندیاں عائد کرنے کا امکان فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام کا مطلب آبنائے کو مکمل طور پر بند کرنا نہیں بلکہ دشمنوں کے خلاف مخصوص پابندیاں لگانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدام کے محض اعلان سے بھی مخالفین پر بھاری اقتصادی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ان کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد باکپور نے اسرائیل کو دھمکی دی کہ اگر کوئی بھی جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو پہلے سے زیادہ فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔باکپور، جنہیں گزشتہ جون میں 12 دن کی جنگ کے دوران حسین سلامی کے مارے جانے کے بعد تعینات کیا گیا تھا، نے کہا کہ انقلابی گارڈ کی فورسز کسی بھی اسرائیلی حملے کا مقابلہ کرنے یا ملک میں افراتفری پھیلانے کی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کی دھمکیوں کا ذکر ایرانی وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ نے بھی کیا جنہوں نے کہا کہ ایران نے بعض ممالک میں ہتھیاروں کی فیکٹریاں اور فوجی ڈھانچہ قائم کیا ہے جنہیں ضرورت پڑنے پر ظاہر کیا جائے گا۔


