اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کردیا
ویب ڈیسک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر اقتصادی پابندیاں مستقل طور پر اٹھانے کے خلاف ووٹ دے دیا، جو تہران کے لیے ایک بڑا اقتصادی دھچکا ہے، جسے ایران نے ’سیاسی جانبداری‘ قرار دیا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں پابندیوں کو روکنے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 9 ووٹ سے ناکام ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ اگر اس سے پہلے کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا تو یورپی پابندیاں 28 ستمبر تک دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔روس، چین، پاکستان اور الجزائر نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ سلامتی کونسل کے 9 اراکین نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا، 2 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔واضح رہے کہ اگست کے خر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا تھا کہ اگر تہران مطالبات پورے نہ کرے تو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں، جس کے بعد 30 روز کے بعد یہ عمل شروع ہوا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ تصادم کے بجائے سفارت کاری کا انتخاب کرے۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے پر پہنچنے کے لیے2015ئ میں جوہری معاہدے میں شامل 3 فریقوں کو مناسب اور قابل عمل منصوبہ پیش کیا ہے۔عباس عراقچی نے سلامتی کونسل میں ایران پر اسنیپ بیک پابندیوں کے میکنیزم کو متحرک کرنے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ تصادم کے بجائے سفارت کاری کا انتخاب کرے۔


