بلوچستان میں 26 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، ریاست کا کام صرف رٹ قائم کرنا نہیں، حقوق بھی دینے ہوں گے، حافظ نعیم

کوئٹہ (پ ر) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکمران اپنی ناکامی کوتسلیم کریں خوف خدا رکھنے اور بہتر نظام اور پارٹی ملک چلا سکتی ہے سندھ اور بلوچستان کا کرپشن میں سخت مقابلہ جاری ہے مافیا کی سرپرستی سیاسی جماعتوں کے زوال کا سبب بنتی ہیں، اچھے لوگوں کو آگے لانے کیلئے جہدوجہد تیز کرنا ہوگی، بنو قابل پروگرام نوجوانوں کو مواقع دینے کی راہ ہے۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے پسے ہوئے لوگوں کے ساتھ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمد اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن کاجماعت اسلامی میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن، عبدالنعیم رند نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں 26 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، تعلیم خیرات نہیں بلکہ ہر بچے کا حق ہے، بلوچستان میں سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کا آسان اور بہتر فارمولا ہے، بہاولپور کے بجائے بلوچستان کے زیارت میں سولر پلانٹ لگایا جاسکتا تھا جس سے کم خرچ میں زیادہ بجلی بنائی جاسکتی تھی۔ ناانصافیوں، غلطیوں پر بروقت نشاندہی کرتے رہیں گے، صرف رٹ قائم کرنا ریاست کا کام نہیں بلکہ اسکے ساتھ حقوق بھی دینے ہوں گے، تمام قبائل اور برادریوں کی دیکھ بھال حکمرانوں کا فرض ہے۔ قبائلی اور نسلی امتیاز نفرت کے لئے نہیں۔ حضور پاک نے انصاف اور میرٹ کو بنیاد بنا کر فیصلے کئے، زبان اور قومیت کی بنیاد پر نہیں، فیصلے قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر ہونے چاہیے۔ اسلام کا مجموعی نظام پوری انسانیت ہے۔ تعلیم یافتہ افراد اجتماعیت کی مثال بن جاتے ہیں، اسلام نے ہمیشہ انفرادیت کی بجائے اجتماعی طور طریقے اور نظام کو تابع کیا، اسلام کی بنیاد عدل وانصاف ہے مسلمان کا کام اللہ کی حکمرانی کی جہدوجہد کرنا ہے جماعت اسلامی امت کو جوڑنے اور اللہ کی حاکمیت کا کام کرتی ہے، کوئی سردار یا نواب، چوہدری حاکم نہیں بلکہ حاکم صرف اللہ ہے جماعت اسلامی مسلک قومیت کے اختلاف پر یقین نہیں رکھتی بلکہ اقلیتوں کو بھی ساتھ رکھتی ہے، امریکہ سیمت بہت سے ملک نسل پرستی پر سیاست کرتے ہیں جماعت اسلامی قوم کے مشترکات کو مدنظر رکھ کر کام کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں