ٹرمپ نے مغربی ممالک کے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت کردی، روس کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکی
نیو یارک (آئی آئی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں روس کو سخت اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی عالمی کوششوں کو مسترد کردیا۔جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے یو این خطاب میں ٹرمپ نے درجنوں عالمی رہنماﺅں سے خطاب کیا، جن میں سے اکثر امریکہ کی روایتی اتحادی پالیسیوں سے ہٹ کر امریکہ فرسٹ ایجنڈے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اتحادی ممالک نے یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے روس پر یکساں تجارتی اقدامات نہ کیے تو امریکہ یکطرفہ طور پر ماسکو پر مزید ٹیرف عائد کرے گا۔مشرق وسطی کے حوالے سے انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مقف کی تائید کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی اور زور دیا کہ اس وقت ترجیح یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی ہونی چاہیے، جنہیں حماس نے 2023 کے حملے میں قید کیا تھا۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر اپنی امن کوششوں کی حمایت نہ کرنے کا الزام بھی لگایا اور سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کی وکالت کی۔ خطاب کے دوران انہوں نے یو این کی عمارت اور اپنے ٹیلے پرامپٹر کی خرابی پر طنزیہ انداز میں مذاق بھی کیا۔انہوں نے مغربی ممالک کے ان فیصلوں کی شدید مخالفت کی، جنہوں نے حالیہ دو دنوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ ان ممالک میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایسے اقدامات حماس کے سنگین مظالم کو انعام دینے کے مترادف ہیں۔ امریکی صدر نے زور دیا کہ تمام یرغمالیوں کو ، چاہے وہ زندہ ہوں یا ہلاک، ان کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے اور غزہ کی جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔


