ٹرمپ نے حماس کو غزہ امن منصوبے پر جواب کیلئے چار دن کی ڈیڈ لائن دے دی
ویب ڈیسک : ٹرمپ نے حماس کو غزہ امن منصوبے پر جواب کیلئے چار دن کی ڈیڈ لائن دے دی دوسری جانب سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کردیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کے پاس ان کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر ردعمل دینے کے لیے تین سے چار دن ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاو¿س میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے امن منصوبے کو مسترد کیا تو پھر اسرائیل کو اجازت ہوگی کہ جو چاہے کرے اور امریکا اس کی مکمل حمایت کرے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر حماس نے امن معاہدہ رد کر دیا تو یہ بہت افسوسناک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بس حماس کی جانب سے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر تمام عرب اور مسلم ممالک کے علاوہ اسرائیل نے بھی دستخط کیے ہیں، اور اگر حماس دستخط نہیں کرے گی تو یہ ایک انتہائی ناخوشگوار نتیجہ ہوگا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ترک خبر رساں ادارے ’ٹی ار ٹی ورلڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انتونیو گوتیرس غزہ اور خطے میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔عرب اور مسلم ممالک کے ’اہم کردار’ کو سراہتے ہوئے انتونیو گوتیریس نے کہا کہ ’اب یہ نہایت ضروری ہے کہ تمام فریقین کسی معاہدے اور اس کے نفاذ کے لیے پ±رعزم ہوں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح اس جنگ سے پیدا ہونے والی شدید تکالیف کو کم کرنا ہونا چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل نے ایک بار پھر غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے دو ریاستی حل کے حصول کے لیے حالات سازگار ہوں گے۔


