بلوچستان ”مسائلستان“ یا ”ترقی کا استعارہ“
تحریر: عبدالرزاق
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے حال ہی میں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک بیان میں یہ کہا گیا کہ مالی سال 2024–25 کے دوران صوبے کا 99.99 فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کیا گیا ہے۔ اس اعلان نے مختلف حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ اگر واقعی اتنی بڑی رقم خرچ ہوئی ہے تو بلوچستان کی زمینی حقیقت کیوں نہیں بدلی۔ مگر اس بحث کو محض سیاسی تنقید تک محدود رکھنا درست نہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اس دعوے کو صوبے کے جغرافیہ، مالیاتی نظام اور ماضی کی کارکردگی کے تناظر میں دیکھیں۔
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو تقریباً تین لاکھ سینتالیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے کم گنجان ہے۔ اس وسیع اور دشوار گزار خطے میں سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور پانی کی اسکیموں کی تعمیر فطری طور پر مہنگی اور وقت طلب ہے۔ ایک کلومیٹر سڑک یا پائپ لائن کی لاگت یہاں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آتی ہے۔ اس لیے ترقی کا پیمانہ وہی نہیں ہو سکتا جو پنجاب یا سندھ کے لیے ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ماضی میں بلوچستان میں ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ وقت پر خرچ نہ ہونے کے باعث لَیپس ہو جاتا تھا۔ اکثر منصوبے کاغذوں پر رہ جاتے، فنڈز واپس مرکز کو چلے جاتے اور اگلے سال وہی اسکیمیں دوبارہ فائلوں میں شامل کی جاتیں۔
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ایک تاریخی کامیابی ہے جس میں ترقیاتی بجٹ کا سو فیصد استعمال ممکن ہوا۔
Years the Over Utilization Budget Development
مالی سال 2021–22: 53، مالی سال 2022–23: 66، مالی سال 2023–24: 55، مالی سال 2024–25: 100۔
یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ ترقیاتی بجٹ صرف چند حکام اپنی مرضی سے بناتے ہیں۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام تمام ارکان اسمبلی کی تجاویز سے بنتا ہے۔ ہر ضلع کے ایم پی ایز اپنے علاقوں کے منصوبے پیش کرتے ہیں جنہیں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات جانچ پرکھ کے بعد شامل کرتا ہے۔ اس طرح یہ بجٹ ایک نمائندہ دستاویز بنتا ہے، جس میں پورے صوبے کی ترجیحات جھلکتی ہیں۔
شفافیت کے لیے حکومت بلوچستان نے حالیہ عرصے میں مکمل شدہ منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا آغاز کیا ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر شائع اشتہارات عوام کو موقع دیتے ہیں کہ وہ خود جا کر دیکھیں کہ ان کے علاقوں میں کیا کام ہوا۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اپنی ویب سائٹ پر پی سی فور اور پی سی فائیو رپورٹس بھی فراہم کرتا ہے، جو ہر منصوبے کی تکمیل اور کارکردگی کی تفصیل پیش کرتی ہیں۔ یہ اقدامات حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقیاتی کام محض فائلوں میں نہیں بلکہ زمین پر نظر آنے چاہئیں۔
البتہ تنقید کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، مگر یہ تنقید اعداد و شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اگر کسی اسکیم میں بے ضابطگی یا کرپشن کا شک ہو تو اس کے لیے باقاعدہ فورمز موجود ہیں — نیب، اینٹی کرپشن، چیف منسٹر انسپکشن ٹیم اور عدالتیں۔ یہی ادارے شفاف تحقیقات کے مجاز ہیں۔ سوشل میڈیا یا اندازوں کی بنیاد پر پورے عمل کو مشکوک قرار دینا انصاف نہیں۔
اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی نگرانی کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ اگر ہر منصوبے کی لاگت، مقام، ٹھیکیدار اور تصاویر عوامی ویب سائٹ پر دستیاب ہوں، اگر ماہانہ بنیادوں پر ترقیاتی رپورٹس شائع ہوں، اور اگر ٹینڈر و آڈٹ رپورٹس عام کی جائیں تو نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
آخر میں یہ سمجھنا چاہیے کہ 99.99 فیصد بجٹ کا خرچ ہونا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ اب امتحان اس بات کا ہے کہ یہ خرچ عوام کی زندگی میں بہتری کی صورت میں کب نظر آتا ہے۔ اگر حکومت نے شفافیت اور کارکردگی کے اس تسلسل کو برقرار رکھا تو وہ دن دور نہیں جب بلوچستان کو ”مسائلستان“ نہیں بلکہ ”ترقی کا استعارہ“ کہا جائے گا۔


