پنجگور میں خاتون پر مبینہ تشدد کا واقعہ، فورسز کے آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے خاتون کو انسانی ڈھال بنایا اور نقصان پہنچایا، ایف سی

پنجگور میں خاتون پر مبینہ تشدد کے واقعے پر ایف سی پنجگور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کے آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے خاتون کو انسانی ڈھال بنایا اور نقصان پہنچایاایف سی پنجگور نے ایک جاری اعلامیہ میں کہا ہے کہ گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پنجگور کے علاقے عیسیٰ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیاآپریشن کے دوران دہشت گرد قاسم نے ایک کمرے میں پناہ لی اور اپنی بھانجی نازیہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تاہم، نازیہ نے ڈھال بننے سے انکار کردیا جس پر TTP کے دہشت گردوں نے اسے نقصان پہنچایا۔بیان میں کہا گیا کہ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روم کلیئرنس کے دوران غیر معمولی مہارت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے قاسم کو زندہ گرفتار کرلیا۔ابتدائی تفتیش میں قاسم نے انکشاف کیا کہ اس کی بہن فریدہ، بھانجی نازیہ اور بھانجا احمد علی سب TTP کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ قاسم ولد جما خان کا تعلق پنجگور کے علاقے تاسپ سے ہے، جب کہ اس کے خاندان کے دیگر افراد مختلف علاقوں میں اسی نیٹ ورک سے منسلک تھے۔بیان کے مطابق مزید تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ فریدہ کے پاس ایرانی و پاکستانی شناختی اسناد موجود ہیں، جنہیں وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سہولت کے لیے استعمال کرتی رہی۔مزید کہا گیا کہ قاسم نے اعتراف کیا کہ وہ مقصود، نیاز اور داو¿د نامی عناصر کے ساتھ ٹی ٹی پی ونگ میں سرگرم تھا اور متعدد حملوں میں بھی شریک رہا ہے۔س

اپنا تبصرہ بھیجیں