سیاست کے تیور بدلنے لگے
اداریہ
ملکی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے تجزیہ کا رکچھ عرصے سے محسوس کر رہے تھے کہ ملکی اور عالمی سطح پر بڑی خاموشی سے دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں پرورش پا رہی ہیں لیکن پاکستان کے سیاستدان ادھر دیکھنے کو تیار نہیں۔ہمارے گردوپیش میں اہم واقعات رونما ہو چکے ہیں۔چین کی مسلح افواج لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی) عبور کرکے اس علاقے میں پہنچ گئی ہیں جس پر چین روز اول سے اپنی ملکیت کا دعویدار ہے۔نیپال اور بھوٹان بھی اپنی اصل سرحدوں میں بھارتی افواج کی موجودگی پر کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں۔ایران نے بھارت کے ساتھ کیا گیا چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور ریلوے ٹریک کا منصوبہ ختم کر دیا ہے۔ایران نے چین کے ساتھ اہم نوعیت اور بھاری مالیت کے معاہدے کر لئے ہیں۔ادھر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے درمیان دوستی کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسی نوعیت کے معاہدے مستقبل قریب میں دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ کرنے والے ہیں۔فلسطین کا کیا بنے گا؟ فی الحال کچھ کہناآسان نہیں۔اس لئے کہ محض22ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر محیط اور ایک کروڑ آبادی والے اسرائیل نے 5جون1967کو اسرائیلی فضائیہ کے 200طیاروں نے 10لاکھ مربع کلومیٹر رقبہ رکھنے والے مصرکے صحرائے سینا پر قبضہ کرلیا اور شام بھی اپنے دارالحکومت دمشق سے صرف 60 کلومیٹرفاصلے پر واقع12سو کلومیٹر رقبے پر محیط گولان کی پہاڑیا ں گنوا بیٹھا۔ آج بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔1973کی جنگ میں مصر نے صحرائے سیناء واپس لے لیامگر شام گولان کی پہاڑیوں سے اسرائیلی قبضہ ختم کرانے میں ناکام رہا۔1978میں جمی کارٹر کی میزبانی میں اسرائیل اور مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کر دیئے۔مصر سے اسرائیل کی دوستی کے نتیجے میں اسرائیل کافی حد تک محفوظ ہوگیا۔ آج تک اس کی بالادستی قائم ہے۔بظاہر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ یو اے ای نے اتنا بڑا فیصلہ سعودی عرب سے مشاورت کئے بغیر نہیں کیا ہوگا۔ جلد ہی یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ آج کل کوئی راز دیر تک راز نہیں رہتا۔پاکستان اپنے معاشی مسائل میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنا اس کے لئے درد سر بنا ہوا ہے۔ہر دوسرے روز مشرقی بارڈرپر بھی ہمسایہ ملک کی بمباری سے کشمیری شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔پاکستانی میڈیا پر چلنے والی یہ خبر بھی توجہ طلب ہے کہ16اگست کو افغانستان میں را،این ڈی ایس نے کالعدم تنظیموں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں تا کہ پاکستان میں سیکورٹی اداروں پر حملے کئے جائیں۔اس ماحول میں افغانستان میں جاری امن کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔گویا تبدیلیوں کی سمت کا تعین ا بھی مشکل ہے۔ کورونا کی وباء سے جان نہیں چھوٹی کوروناسے ہونے والی اموات درجنوں میں اور نئے مریضوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی ماسک پہنے بغیر عورتوں، بچوں اور ہر عمر کے مردوں کی بڑی تعداد گھروں سے نکل آئی ہے۔ ایسے میں خدانخواستہ کورونا پلٹ آیا تو اس بد احتیاطی کی بھاری قیمت ادا کرنے پڑے گی۔لیکن بے لگام اور سوچنے سمجھنے سے قاصر ہجوم کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ حکومت تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی بجائے اپنی دو سالہ کارکردگی کا جشن منانے میں مصروف ہے۔اخبارات میں اس حوالے سے خصوصی ضمیمے شائع کرائے گئے۔جبکہ عوام مہنگائی کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔پشاور میں چینی 110روپے کلو بک رہی ہے۔ نانبائی احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں کہ فائن آٹا جس قیمت پر دستیاب ہے اس پر روٹی بیچنا ممکن نہیں رہا۔سبزیاں اور دیگر اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہفتہ وار بنیادوں پر ہو رہا ہے۔غریب آدمی کے لئے جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔حکومت صرف مہنگائی پر قابو پالے۔ اسے اپنی کار کردگی کے لئے کسی اشتہاری مہم کی ضرورت نہیں رہے گی۔آج اس پوری اشتہاری مہم پر مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کا یہ جملہ بھاری ہے:
”ہم نے چینی52روپے چھوڑی تھی آج دوسال بعد 110روپے فی کلو بک رہی ہے“۔
عام آدمی کے دل کی آواز ہے۔یوٹیلیٹی اسٹور خالی پڑے ہیں۔سستی اشیائے خوردنی ناپید ہیں۔یہ شکایت بھی سننے میں آرہی ہے کہ یوٹیلٹی اسٹور پر صرف چینی یا آٹا بیچتے وقت خریدار سے کہا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کچھ اور بھی خریداری کروگے تو چینی آٹا ملے گا ورنہ صرف یہ دو چیزیں نہیں ملیں گی۔ دہاڑی دار مزدور یوٹیلٹی اسٹور والوں کی شرائط پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔دانت پیس کر رہ جاتے ہیں۔سمجھ نہیں آتا گالی کسے دیں؟ادھر لندن سے نوازشریف کی واپسی کے اشارے ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو یقین دلایا کہ اس مرتبہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے پرسکون حکومت کرنے کی واحد شرط یہی ہے کہ مہنگائی ختم کی جائے۔حکومت جتنی جلدی یہ بنیادی کام کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اتنا ہی اس کے لئے سود مند ہوگا۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت یوٹیلیٹی اسٹور، نانبائی کے تنور پر لوگوں کی گفتگو سن کر خود محسوس کرے کہ غربت کے ستائے ہوئے لوگوں کے جذبات کیا ہیں؟مشتعل عوام نے دوسال صبر کیا ہے توحکومت اسے غنیمت جانے دوسال طویل مدت ہوتی ہے۔کورونا کی ڈھال بھی عملاً ہٹ چکی ہے۔اب مزید انتظار غربت کے مارے اور بیروزگاری کے ستائے لوگ نہیں کر سکتے۔مہنگائی پر قابو پایا جائے۔یہ کورونا سے زیادہ خطرناک ہے۔


