تاجکستان میں چینی مزدوروں پر حملے میں وہ گروہ ملوث جو خطے کے ممالک کے درمیان انتشار پیدار کر رہے ہیں، افغان حکومت
ویب ڈیسک : طالبان حکومت نے تاجکستان کے صوبہ ختلان کے علاقے شمس الدین شاہین میں پیش آنے والے ا±س ’افسوسناک واقعے‘ کی مذمت کی ہے جس میں تین چینی کارکن ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ طالبان حکومت نے اس حوالے سے چین اور تاجکستان دونوں سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان کے ابتدائی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجکستان میں چینی شہریوں پر ہونے والا حملہ ا±ن گروہوں کی کارروائی ہے جو خطے کے ممالک کے درمیان انتشار، عدم استحکام اور بےاعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم طالبان وزارتِ خارجہ کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان میں کسی بھی ملک یا گروہ کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا ہے۔طالبان حکومت نے کہا کہ وہ ’معلومات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور طالبان انتظامیہ نے تاجک حکومت کو ’مکمل تعاون‘ کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔دوسری جانب چین کے تاجک دارالحکومت دوشنبے میں سفارت خانے نے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ تاجکستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب ایک مسلح حملے میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز تاجکستان کے جنوب مغربی صوبے ختلان میں ہونے والے اس حملے میں ایک چینی شہری زخمی بھی ہوا۔ سفارت خانے نے مزید کہا اور اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سرحدی علاقے سے نکل جائیں۔


