معیشت کو بہتر کیے بغیر سیاسی آزادی بھی ناممکن ہے،سینیٹر سراج الحق
پشاورۛامیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ معیشت کو بہتر کیے بغیر سیاسی آزادی بھی ناممکن ہے ۔ حکومت معیشت ٹھیک نہ کر سکی تو اس کی ناکامی یقینی ہے ۔موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ہر پاکستانی کے مشکلات میںاضافہ کیا ہے سودی نظام اور قرضوں کے بنیاد پر قائم نظام نے پاکستان کے معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ ملک کے تاجرخوشحال ہوں گے تو عوام خوشحال ہوں گے روزگار کے مواقعے بڑھیں گے ۔ موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ تاجروں کو نچوڑا گیا ہے ۔ کورونا کی وجہ سے پانچ ماہ تک کاروبار بند رہا اور کورونامتاثرین کے لیے جو بارہ سو ارب روپے رکھے گئے تھے اس کو کورونا متاثرین کے بجائے بجٹ کا حصہ بنایا گیا ۔ ایف بی آر مسلسل تاجروں کو ٹاچر کر رہی ہے اور تاجر برادری ملک میںاپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ۔ ایف بی آر کی وجہ سے تاجر برادری ذہنی کوفت اور دہشت میں مبتلا ہیں ۔ مقامی سطح پر ضلعی انتظامیہ نے کرایوں میںاضافہ کردیا ہے جس سے مقامی تاجر پریشان ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میںپہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاجر متاثر ہوئے اس کے بعد ان کے سروں پر ایف بی آر نے کوڑے برسائے اور رہی سہی کسر بی آر ٹی نے پوری کردی ۔ بی آر ٹی نے پشاور کے تاجروں کے کاروبار کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ افسو س کی بات ہے کہ حکومت نے بی آر ٹی کی نامکمل منصوبے کا افتتاح کردیا ۔ نیب بی آرٹی منصوبے کے تحقیقات کرائیں ۔ اگر حکومت نے سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر ہی چلنا تھا تو اسے بلند و بانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں تھے ۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر چھوٹے تاجروں کا گلا دباناظلم ہے۔ چھوٹے تاجروں پر ٹیکس بڑھانے سے تجارت میں بہتری آئے گی نہ برآمدات بڑھ سکیں گی ۔وہ پشاو رمیں الخدمت تاجران کے زیر اہتمام تاجر سیمینار سے خطا ب کرر ہے تھے ۔ سیمینار سے مرکزی صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری ، الخدمت تاجران کے صدر خالد گل مہمند ، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی خیبرپختونخوا عبدالواسع ، امیر جماعت اسلامی پشاو رعتیق الرحمن ، مرکز ی تنظیم تاجران کے ملک مہر الٰہی ، تاجر رہنماء شرافت علی مبارک ، سرحد چیمبر آف کامرس کے نائب صدر عبدالجلیل جان ، مجیب الرحمن ، حبیب اللہ زاہد ، حاجی عبدالنصیر ، ملک عبداللہ ، شاہد حسرت ، چیمبر آف کامرس کے عاطف حلیم اور دیگر تاجر تنظمیوں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میںتاجر کی عز ت نفس بحال کی جائے ۔ وفاقی حکومت ایف بی آر کے ڈھانچے کی از سر نو تعمیر کر کے اس کے اندر اصلاحات لائیں اور ایف بی آر کو تاجر دوست ادارہ بنائیں ۔ انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ایف اے ڈی ایف کے ہدایات پر جو پالیسیاں بنائی جارہی ہیں ان پالیسیوں کو تاجروں کے مشاورت سے درست سمت میں بنائیں ۔ انہوںنے کہا کہ ایف بی آر نے سلیز ٹیکس کے لیے جو مشکل دستاویزات ترتیب دیے ہیں اس کو آسان بنائیں کیونکہ پیچیدہ دستاویزات سے تاجروں کو شدید مشکلات درپیش آرہی ہیں ۔ سراج الحق نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت دعوے کرتی تھی کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آئیں گے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی مگر حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اربوں روپے کا سرمایہ ڈوب چکاہے اور ملکی سرمایہ کار بھی اپنے کاروبار سمیٹ کر باہر بھاگ رہے ہیں ۔ حکومت اب بھی اسلام کے انقلابی معاشی نظام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں


