اے عظیم تالا!

تحریر: پروفیسر باقی جتک
کوئٹہ کی سردیاں، سردیوں کی چھٹیاں،علم قید، اندر خاموشی، فضاءمیں گوریچی سوال…
اور عقل حیران
دودو: سرخ سیل لگے کالے تالے کو سلوٹ کرتے ہوئے
اے عظیم تالا!
گواہ رہنا، آج علم کو نہیں عقل کو قید کیا گیا ہے
شَمَک: چپ! یہ کوئی عام تالا نہیں یہ انتظامی فلسفے کا عملی نمونہ ہے
یہی تو اصل فلسفہ ہے جسمیں یونیورسٹی بند کرکے سوچاجاتا ہے، قوم ترقی کرے گی ملک اڑان بھرےگا
شَمَک: تم کو کیا پتہ یونیورسٹی بند کرنے سے بجلی اورگیس کا بل بچت کرنا مذاق ہے کیا؟ مالی جہاد ہے پورا مالی جہاد
دودو: اور یہ جو تین چار سو لوگوں کو مفت کی چھٹیاں اور تنخواہیں یہ بھی مالی جہاد ہے کیا، نہ نہ یہ معاملہ کچھ خاص ہے
شَمَک: منفی گیارہ میں گہری سانس لیتے ہوئے
کہتے ہیں وطن عزیز میں فیصلے آئین، قانون اور علم کی ترقی کیلئے عقل سے نہیں بلکہ دار سے بچنے اور چوکی دار کو خوش کرنے کیلئے ماشین سے ہوتے ہیں
دودو: ویسے یہ کال کولیٹر زبردست مشین ہے جو کبھی کبھی علم کو فضول، انسانوں کو خطرہ اور تالے کو ترقی بتاتا ہے
شَمَک: او سادہ..
اسے کہتے ہیں انتظامی ذہانت
غیر آئینی مگر بہت کفایت شعار.
دودو: واہ سرکار و ہر کار. جہاں وسائل دفن ہوں وہاں علم دفن کرنا عین انتظامی ذہانت سمجھا جاتا ہے
شَمَک: سردی کی تپش سے بچنے کیلئے اپنی چادر سے ناک اور چہرہ چھپاتے ہوئے…
دو چار ہزار تو بچالیے یہ جو سینکڑوں ذہن ضائع کردیے گئے، لیکن فکر مت کرو وہ تو اس دیس میں ویسے بھی بہت سستے سمجھے جاتے ہیں
دودو: جھریوں بھرے چہرے پر سنجیدگی…
یونیورسٹی بند کرنا آئینی جرم نہیں یہ تو ایک روایت ہے اور رسم بھی
شَمَک: ٹھیک بولا تم نے یار
یہاں حق مانگو تو غدار
سوال پوچھو تو ایجنٹ
اور تعلیم مانگو تو تالا
دودو: یار لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان تعلیم میں پسماندہ ہے… مگر
کوئی نہیں بتاتا پسماندگی کو پالیسی بنایا گیا ہے اور تعلیم بند دروازوں کے پیچھے ہے
شَمَک: تالے کو ایک خوبصورت سلوٹ مارتے ہوئے چہرے کو مزید ڈھانپتے ہوئے
جلدی نکلو اس سے پہلے کہ تمھاری زندگی کو تالا لگے..
یہ تالا ثبوت ہے
کہ یہاں تعلیم و تحقیق بھی اجازت سے مشروط ہیں. چلو دودھ پتی پیتے ہیں، تنخواہیں کٹ گئیں تو کیا ہوا اپنے یار کیلئے چائے کے پیسے تو ہیں
دودو: ہاں یار شَمَکہ چلتے ہیں…
یہ تالا لوہے کا نہیں
اصل میں نیت کا تالا ہے. اور نیتیں کوئٹہ کی سردی سے بھی زیادہ سرد ہوگئی ہیں. جلدی چلو اس سے پہلے کہ تم بھی مشکوک ہوجاﺅ…
یہاں خاموشی کو رضامندی اور تالے کو ترقی کہتے ہیں.
شَمَک: تمہارا مطلب یہ ایک کھلا پیغام ہے…
زیادہ مت پڑھو.
زیادہ مت سوچو.
زیادہ مت پوچھو.
دودو: او اوہ
کیونکہ جو پڑھتا ہے
وہ پوچھنا سیکھتا ہے.
مانگنے لگتا ہے اور جو
مانگنے لگے وہ خطرہ بن جاتا ہے.
لیکن تاریخ گواہ ہے جو لوگ کتاب سے ڈرتے ہیں وہ ایک دن سوال سے ہار جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے