نواز شریف کی وطن واپسی
اداریہ
مسلم لیگ نون کے تاحیات رہنماسابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سزایافتہ قیدی ہونے کے باوجود خون میں پلیٹ لیٹس کی انتہائی کمی اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے باعث انسانی بنیادوں پر بغرض علاج جیل سے لندن جانے میں کامیاب ہو گئے۔تفصیلات سے سب واقف ہیں۔ان کے ہمراہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بھی لندن پہنچ گئے۔بڑے بھائی کی تیمارداری کے علاوہ انہیں بھی متعدد بیماریاں لاحق ہیں اور بیرون ملک علاج کرانا مقصود تھا۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کی بناء پر شہباز شریف کسی موہوم وعدے یا تسلی کی بنیاد پر پاکستان لوٹ آئے۔لیکن کورونا کے ڈر سے اپنی رہائش گاہ سے باہر آنا پسند نہیں کیا سوائے چند اہم مواقع کے زیادہ وقت گھر میں گزارا۔ان کے بارے میں عمومی تأثر یہ ہے کہ موصوف اسٹبلشمنٹ سے بگڑے معاملات کوسنوارنے کا ہنر جانتے ہیں۔بڑے بھائی کی لندن روانگی کو بھی انہی کی سیاسی معاملہ فہمی کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔لیکن عدالتی حکم کے مطابق نوازشریف لندن سے بوجوہ اپنی تصدیق شدہ پندرہ روزہ میڈیکل رپورٹ بھجوانے میں ناکام رہے۔لندن میں وہ ایک دن کے لئے بھی کسی معروف اسپتال میں زیر علاج نہیں رہے۔ان کے اس رویہ کی وجہ سے حکومتی حلقوں میں بیچینی پیدا ہونا فطری امر تھا۔چنانچہ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کے لئے قانونی کارروائی کی جائے۔ایک دو مقدمات میں عدم پیشی کی بناء پر انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تو ان کے وکلاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی کہ نواز شریف عدالتی ضمانت پر ہیں اس لئے انہیں اشتہاری ملزم کہنادرست نہیں مگر اسلام آباد ہائی کورٹ کو مطمئن کرنے کی بجائے اپنی درخواست واپس لے لی۔اب ماتحت عدالت عدم پیشی پرانہیں اشتہاری ملزم قرار دے گی۔
اسی دوران نیب نے ان کی صاحبزادی مریم نواز کو رائے ونڈمیں واقع200ایکڑ اراضی /جائیداد کے بارے میں پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا تو وہ سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ نیب پہنچیں اور حفاظتی پابندیوں کو دیکھ کر ان کے کارکن مشتعل ہوگئے اور نوبت پتھراؤاور آنسو گیس تک جا پہنچی۔ نیب نے ان کی پیشی منسوخ کردی چنانچہ انہیں دو گھنٹوں بعد واپس آنا پڑا۔مریم نواز کے خیال میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے جبکہ اس تصادم کے نتیجے میں نیب اور پولیس کی جانب سے کارِ سرکار میں مداخلت سمیت متعدد مقدمات قائم کئے گئے۔تاحال مریم نواز کو نیب نے دوبارہ طلب نہیں کیا۔ نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گا۔البتہ نون لیگ کے قائد کے خلاف توشہ خانے سے قیمتی گاڑی حاصل کرنے کے حوالے سے نیا ریفرنس دائر ہوگیا ہے اور انہیں لندن سے واپس لانے کی کارروائی میں تیزی آگئی ہے۔کابینہ میں اس بارے میں تفصیلی بحث سے یہی اشاراملتا ہے کہ حکومت ان کی وطن واپسی کو سنجیدہ معاملہ سمجھتی ہے۔ اس مرتبہ نوازشریف کے لئے برطانوی حکومت سے مراعات لینا آسان نہیں۔سب سے بڑی وجہ یہ کہ وہ عدالت کے حکم پر بشرطِ واپسی بغرض علاج بیرون ملک گئے تھے۔بروقت میڈیکل رپورٹس نہ بھیجنا ان کے لندن قیام کا جواز کمزور کرنے کے لئے کافی ہے۔مریم نواز شائد حالات کا تجزیہ کرنے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہو گئی ہیں۔ان کے والد نواز شریف کا لندن جانا،ماضی میں جدہ جانے والے واقعہ سے مختلف ہے اسے پرانے تناظر میں دیکھنا درست نہیں۔اب نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ مجرم ہیں، پہلے صرف ملزم تھے۔اس مرتبہ وہ عرب حکمرانوں کی سفارش پر بیرون ملک نہیں گئے بلکہ عدالت میں ذاتی مچلکے جمع کرانے کے بعد روانہ ہوئے ہیں۔اب کوئی عرب ملک خواہ کتنا ہی خواہشمند ہو تب بھی ماضی جیسا کردار ادا نہیں کر سکتا۔باہمی تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں رہی، پاکستان سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر واپس کرچکا ہے دوسرا ایک ارب ڈالر بھی 31اگست تک ادا کردیا جائے گا۔ادھار تیل کی فراہمی بھی بند ہو چکی ہے۔
مسلم لیگ نون کی مشکلات میں تیزی سے اضافہ قیادت نے درست تناظر میں نہیں دیکھا ورنہ نیب پیشی پر لاؤلشکر کے ساتھ جانے کی چنداں کوئی ضرورت تھی۔مریم نواز جانتی ہیں کہ وہ خود بھی سزا یافتہ قیدی ہیں۔جیسے ہی ان کی اپیل پر ان کے خلاف فیصلہ آتا ہے یا کسی نئے مقدمے میں سنائی جاتی ہے انہیں جاتی امراء سے جیل جانا پڑے گا۔شہباز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادوں کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ماہرین قانون کے خیال میں ٹھو س شواہد پر قائم کئے گئے ہیں۔دفاع آسان نہیں۔نیب کا یہ سوال اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ جب ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تو وہ بیرون ملک کیوں بیٹھے ہیں؟بات سیدھی اور سمجھ میں آنے والی ہے۔اس سے ملتے جلتے مقدمات پی پی پی کی قیادت کے خلاف بھی زیر سماعت ہیں۔زرداری فیملی بھی مشکل میں دکھائی دیتی ہے۔عدالت کو مطمئن کرنا ممکن ہوتا تو فردجرم عائد کئے جانے کی راہ میں بار بار درخواستیں نہ لگائی جاتیں۔ویڈیو لنک کی سہولت عدالتی کارکردگی میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔بیماری کا عذر بھی تاریخ سماعت کے التواء میں مدد نہیں دے سکتا۔نون لیگ اور پی پی پی کی قیادت کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے۔اب مولانا فضل الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمٰن کو بھی نیب نے طلب کر لیا ہے۔اس کے معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ اے پی سی کا انعقادمشکل ہو جائے گا۔اپوزیشن کی مشکلات میں کمی کے آثار نظر نہیں آتے۔ تتر بتر اپوزیشن کیا حکمت عملی بنائے گی ابھی غیر واضح ہے۔


