ایک دو ماہ میں ایران بارڈر پر راہداری سسٹم کو ختم کیا جائے گا، حمزہ شفقات

کوئٹہ ( آئی این پی )ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم)بلو چستان محمدحمزہ شفقات نے کہا ہے کہ قانونی تجا رت سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے،ایک دو ما ہ میں ایران بارڈر پر بھی راہداری سسٹم کو (ODR )پر منتقل کیا جا ئے گا اور آمد و رفت پاسپورٹ کے بغیر ممکن نہ ہو گی ، اب اسمگلنگ ، پوست کی کا شت ،غیر قانونی تجارت کو قبول نہیں کیا جا ئے گا یہ تاثر درست نہیں کہ صو بے میں امن و امان و دیگر مسائل کی خاص وجہ بے روزگاری ہے جن ڈویژنز میں دہشتگردی کے واقعات زیا دہ ہیں ان میں بے روزگا ری کی شرح دیگر ڈویژنز سے کم ہے31جنوری کے واقعات میں ملوث 221افراد ما رے جا چکے جبکہ100کے قریب گرفتارکرلئے گئے ہیں، نوشکی حملے کے لئے ما لی معاونت پوست کی کا شت کے ذریعے حاصل کی گئی ہے ، باڈرنگ ڈسٹرکٹ کے لوگوں کی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعہ مالی معاونت کی جا ئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے عہدہداران و ممبرا ن کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے شرکاءسے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ اس موقع پر سابق گورنر بلو چستان ملک عبدالولی کا کڑ ، سابق نگران وزیر یحیی ٰخان ناصر ،چیف کلکٹر اپریزمنٹ بلو چستان مسعود احمد ،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے صدر حاجی محمد ایوب مر یا نی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ کے صدر حاجی محمد ایوب مر یا نی ، حاجی اختر کا کڑ و دیگر عہدیداران و ممبرا ن کا کہنا تھا کہ بلو چستان اس خطے کا معاشی گیٹ کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہاں غیر منصفا نہ ٹیکس ویلیو ایشن ، امپورٹ و ایکسپورٹ گڈز کی نقل و حمل میں تاخیر و دیگر چیلنجز قانونی تجا رت کی را ہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔انہوں نے ای آئی ایف کی مدت میں 6ماہ تک اضافہ،رول ایبل اسکریپ کی دس فیصد تک میوٹیشن کی اجازت تفتان بارڈر کے اوقات کا ر میں اضافہ ،بازارچہ بزنس ٹرمینل پر تمام اشیاءکی آمد و رفت کی اجازت کا بھی مطا لبہ کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کا روبار کو مزید فروغ دینے کا مو جب بنےںگے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم)بلو چستان حمزہ شفقات نے کہا کہ ہمسائیہ ملک ایران میں داخلہ ایک دو ما ہ میں راہداری کی بجا ئے پاسپورٹ پر منتقل کیا جا رہا ہے اب مزید لو گ ڈی سی کی اجازت نا مہ پر ہمسائیہ ملک میں داخل نہیں ہوسکیں گے جن اشیاءکی صو بے اور ملک میں کمی ہے ان کی بیرون ملک اسمگلنگ کسی صورت نہیں ہو نے دی جا ئے گی پا کستانی چینی کی بلو چستان میں خرید و فروخت سے متعلق معاملے کو ہم دیکھیںگے ،انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید بلو چستان میں امن و امان کی خرابی بے روزگا ری کی وجہ سے ہے ایسا با لکل بھی نہیں اعدادو شمار کے مطابق بلو چستان میں بے روزگار افراد کی تعداد 2لا کھ 20ہزار سے زائد ہیں جن میں سب سے زیا دہ لو گ ژوب ، لو را لا ئی ، کو ئٹہ اور نصیر آباد ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں مکران اور رخشاں ڈویژنز میں جہاں دہشتگردی کے واقعات زیا دہ ہو رہے ہیں ان میں بے روزگاری کی شرح ا ن اضلاع سے کم ہیںانہوں نے کہا کہ31جنوری کو بلو چستان کے مختلف اضلاع میں حملے کر نے والے افراد کی تعداد 4 سو کے لگ بھگ تھی جن میں 221افراد ما رے جا چکے ہیں جبکہ 100کے قریب گرفتار کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا نو شکی میں حملہ کر نے والوں نے ما لی معاونت پوست کی کا شت سے حاصل کی اب مزید پوست کی کا شت ،غیر قانونی بارڈر ٹریڈ اور اسمگلنگ کی کسی کو اجازت نہیں دی جا رئے گی ، انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس کی جا نب سے جو تجا ویز دی گئی ہیں ان پر سنجیدگی سے غور کیا جا ئے گا ہما ری کو شش ہو گی کہ با رڈر کھولنے کے دورانیہ میں مزید اضافہ ہو اس سلسلے میںہم متعلقہ محکموں کے ساتھ معاملہ پر رابطے اور گفت و شنید کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جلد باڈرنگ اضلاع کے افراد کے لئے صو با ئی حکومت کی جا نب سے مفت پاسپورٹ بنوانے کا بھی اعلان ہو گا بلکہ ہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سرحدی اضلاع کے لوگوں کی ما لی معاونت بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں رجسٹرڈ افراد کے بچوں کو ہم ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیمی سہولیات دیں گے بلکہ روزگار کے لئے با ہرجا نے کے خواہش مندوں کو صو با ئی حکومت سات سات لا کھ روپے تک معاونت کرے گی ، انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران و ممبرا ن ایک کمیٹی تشکیل دیں اور ہم سے مختلف امور با رے آکر با ت چیت کریں تا کہ انہیں درپیش مشکلات و مسائل کا حل نکا لا جا سکیں ۔اس موقع پر چیف کلکٹر اپریزمنٹ بلو چستان مسعود احمد کا کہنا تھا کہ ٹیکس ویلیو ایشن کے لئے چیمبر کے عہدیداران و ممبرا ن ڈی جی ویلیو ایشن کے ساتھ معاملے کو اٹھا ئے اس با بت ہم ان کا ساتھ دیں گے ان کا کہنا تھا کہ ایس آر او 1387کا معاملہ حل ہو چکا جہاں تک بارڈر کے اوقات کا ر کا تعلق ہے توپا کستان کسٹمز کے سروسز وہاں 24/7دستیاب ہیں تا ہم ایران کی جا نب گیٹ کو بند کر دیا جا تا ہے اس معاملے کو جوائنٹ با رڈرٹریڈ کمیٹی (JBTC) میں اٹھا یا جا ئے گا انہوں نے کہا کہ چمن بارڈر کی بندش اور تفتان بارڈر کے اوقات کار میں اضافہ کے لئے وہ تحریری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کر چکے ہیں اور اس معاملے پر کا م ہو رہا ہے ہم ٹی ڈیپ و دیگر کی معاونت سے بزنس کمیونٹی کو تربیت بھی دیں گے تا کہ انہیں ایس آر اوز و دیگر امور با رے جا نکا ری مل سکیں انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چا ہتے کہ کا روبار بند ہو یا پھر بے روزگاری بڑھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے