سانحہ سپین تنگی، نوجوانون کسی بھی طور صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ،اسفندیارولی

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ 24اگست 1930کا دن برصغیر پاک و ہند کے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ 90سال پہلے آج ہی کے دن انگریز سامراج نے سپین تنگی بنوں کے مقام پر پر امن خدائی خدمتگاروں پر فائزنگ کے نتیجے میں 80 سے زائد نہتے خدائی خدمتگار شہید جبکہ بہت سے زخمی کردیے تھے،ان خدائی خدمتگاروں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنا حق آزادی مانگ رہے تھے اور اپنی سرزمین پر اپنے اختیار کا مطالبہ کررہے تھے،باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم اسی تحریک کا تسلسل ہے اور ہر موقع پر حق کا ساتھ دینگے چاہے نتائج کچھ بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انگریز سامراج کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر خونریزی کے باوجود خدائی خدمتگاروں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا کیونکہ یہ باچا خان بابا کی تربیت کا نتیجہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جس یزید وقت نے سپین تنگی بنوں کی سرزمین بے گناہوں کے خون سے رنگ دی ان کا آج دنیا میں کوئی نام تک نہیں جبکہ خدائی خدمتگاروں کے بچے آج بھی سرخ جھنڈے تلے اپنے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ اسفندیار ولی خان نے شہدائے سپین تنگی کو سلام اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سپین تنگی میں نوجوانوں کیلئے ایک سبق ہے کہ وہ کسی بھی طور صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ باچا خان بابا نے اپنے فلسفے سے یہ ثابت کیا ہے کہ پختون پر امن قوم ہے اور صرف عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے سپین تنگی کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور وہ قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنے اسلاف اور اکابرین کے نقش قدم پر چلتی ہیں ۔ باچا خان بابا کا قافلہ آج بھی بھرپور طریقے سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے اور اگر ہم اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے رہے تو یقیناً ایک دن ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ سانحہ سپین تنگی ایک عظیم سانحہ ہے اور آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔نئی نسل کے نام پیغام میں اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ بالخصوص نوجوانوں کو ان واقعات سے صبر، تحمل اور برداشت کا سبق سیکھنا ہوگا۔نوجوان اپنی تاریخ پڑھ کر اپنے اسلاف کی قربانیوں سے اپنے آپ کو باخبر کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں