حیات بلوچ کا درناک قتل نے بلوچستان میں نوجوانوں کو مزید عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے،نیشنل پارٹی

کوئٹہ؛نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ حیات بلوچ کی درناک قتل نے بلوچستان میں نوجوانوں کو مزید عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے۔ماں باپ بچوں کے جوان ہونے پر احساس بے سکونی میں مبتلا ہوتے ہے۔ سی پیک ترقی کا محور کے بجائے بلوچ کش کا محور ثابت ہورہا ہے۔آگ و خون کی دلدل سے نکالنے کے لیے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرکے بلوچ نوجوانوں کو تعلیم و روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے سے ہی حقیقی معنوں میں ترقی کے حصول کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔طاقت مسائل کے بگاڑ کا باعث تو بنتی ہے۔حیات بلوچ کے قتل کا اصل سدباب کو سامنے کیلئے اعلی عدلیہ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ۔بیان میں کہا گیا کہ سی پیک کو ترقی کا محور قرار دیا جاتا ہے بڑے معاہدے کیے جاتے ہیں۔اور یہ سارے معائدے بلوچستان میں عمل میں نظر نہیں آتے ہیں۔ہاں بلوچستان میں ظلم ناانصافی استحصال،آپریشن جبری گمشدگیاں ،چیک پوسٹوں میں تذلیل بے روزگاری پسماندگی اور تنگ دستی ہی نظر آتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچ قوم سمیت دیگر محکوم قوموں کے ساتھ رویوں و پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگا۔بلوچستان کا سیاسی ہے اور سیاسی مسلوں کو طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات کے زریعے حل کیے جاتے ہے۔اس لیے مذاکرات کی پالیسی کو بروئے کار لایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں