حکومت 15ستمبر کو میرحاصل بزنجو کو جمہوری ایوارڈ نوازے، اسلام آباد پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس

اسلام آباد:ملک کی سیاسی سماجی شخصیات نے مرحوم سینیٹر میر حاصل بزنجو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا بلوچستان ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ان کی جد وجہد کا مقصد ملک کے پسماندہ اور کمزور طبقات کا دفاع کرنا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میر حاصل بزنجو کے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر حاصل بزنجو سے پہلی ملاقات تب ہوئی جب میں ڈپٹی چیئرمین بناان سے قانون سازی سے متعلق بہت کچھ سیکھا وہ سینیٹ میں سب کو ساتھ لے کر چلتے تھے15 ستمبر کو جمہوریت کا دن منایا جارہا ہے چاہتے ہیں حکومت بزنجو صاحب کو اس دن جمہوری ایوارڈ سے نوازے۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت اٹھارہویں ترمیم کے رول بیک کے حق میں نہیں ہے سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا میر حاصل بزنجو نے ماضی میں حکومت میں رہ کر بھی جمہوریت سے متعلق قراداوں کی حمایت کی پاکستان میں جمہوری حکومت کو چلانا بہت مشکل کام ہے اگر ہم کسی حکومت کو چلنے نہیں دیں گے تو جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔ سینیٹر میر حاصل بزنجو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا میرا میر حاصل بزنجو سے عشروں پر محیط خاندانی تعلق تھاان کی وفات سے پہلے میں نے ہسپتال میں ان سے ملاقات کی نیر حسین بخاری ملاقات کے دوران کی گئی گفتگو کے گواہ ہیں ملاقات میں ان کا کہنا تھا ہم سب کو مل کر فوج کو بیرکوں میں جانے پر مجبور کرنا ہوگا ان کا کہنا تھا اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی میں مداخلت سے دور رکھنے کی کوشش کریں ہو گی نیشنل پارٹی کے رہنماسینیٹر میر کبیرمحمدشہی نے کہا میرے قائد میر حاصل بزبجو کی زندگی آئینے کی مانند تھی 1956 میں جب آمریت کا دور دورہ تھا تو میر حاصل بزنجو ون یونٹ کے خلاف 300 ورکرز کے ساتھ نکل پڑے وہ بلوچستان کی محرومی کے لیے لڑتے رہے17 سال ان کے ساتھ کام کیا اور بہت کچھ سیکھامیر حاصل اداروں کو اپنی اپنی حدود میں کام کرنے کا درس دیتے رہے وہ کہاکرتے تھے کہ بلوچوں کا مسئلہ بندوق سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ساتھ حل طلب ہے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر آج فیصد تک بھی عملدرآمد نہیں ہورہابلوچستان کو وسائل کی بنیاد پر ہورا حصہ نہیں مل رہا اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے رول بیک کی باتوں کی مذمت کرتے ہیں اگر اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام سڑکوں پر ہوگی سینیٹر اکرم خان نے کہا کہ میرحاصل نڈر اور بے باک شخصیت تھے، وہ بلوچستان کی پسماندگی کا ذمہ دار ڈار وڈیرے،شاہی اور اسٹیبلشمنٹ کو گردانتے تھے۔ وہ ملک کے تمام طبقات کو یکساں حقوق کے علمبردار تھے۔اس دوران سینئر صحافی اور معروف اینکرحامد میر نے خطاب کرتیہوئے کہاکہ پاکستان میں جھوٹ کی حکمرانی ہے جہاں رواداری ہو وہاں سچ سنا جاتا ہے اٹھارہویں ترمیم پاس ہوگئی اب سب سے بڑا مسئلہ اس کا دفاع کرنا ہے اور رواداری کے دشمن کی بھر پور مذمت کرنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں