یقن دہانی پر احتجاج ختم، معاملہ حل نہیں ہوا دوبارہ احتجاج کی طرف جائیں گے، زمیندار ایکشن کمیٹی
زمیندار ایکشن کمیٹی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی کی یقین دہانی پر احتجاج موخر کردیا۔ بدھ کے روز زمیندار ایکشن کمیٹی کاہنگامی اجلاس چیئرمین ورکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی کی زیر صدارت منعقدہ ہوا اجلاس میں جنرل سیکرٹری ملک عبدالرحمن بازئی ،سید عبدالقہار آغا،کاظم خان اچکزئی ،جبار کاکڑ، جبار آغا، حاجی عزیز شاہوانی ،حاجی حیات خان ،حاجی عزیز سرپراہ ،حاجی افضل ،عزیزمغل ،یوسف غنجہ ڈوری ،خالق داد ،عبداللہ موسیٰ زئی کے علاوہ قلات مستونگ پشین قلعہ عبداللہ،قلعہ سیف اللہ نوشکی خاران ژوب پورے بلوچستان سے زمیندار ایکشن کمیٹی کے ایگزیکٹیو کونسل کے ممبران نے شرکت کی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ 2015میں اسلام آباد میں اس وقت کے وزیراعظم کے ساتھ صوبائی حکومت واپڈا اور زمیندار ایکشن کمیٹی کے مابین معاہدہ ہوا کہ واپڈا بلوچستان کے زمینداروں کو 24گھنٹوں میں 8گھنٹے مکمل وولٹیج کے ساتھ بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جبکہ زمینداران 10ہزار بجلی بل دینے کے پابند ہوں گے جبکہ لمٹ 75000پر رکھا جس میں 10ہزار زمیندار اور بقایا 60فیصد صوبائی حکومت جبکہ 40فیصد مرکزی حکومت واپڈا کو سبسڈی کی مد میں دیں گے زمیندار اپنا بل باقاعدگی سے دیتے رہیں جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سبسڈی کی رقم ادا نہیں کی گئی ہے اس وجہ سے واپڈا نے یکطرفہ کارروائی کر کے بلوچستان کے تمام زرعی 620فیڈرز کو بند کر کے صرف 2گھنٹے پینے کے پانی کیلئے بجلی فراہم کررہے ہیں بعد ازاں وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی اور کیسکو حکام کے درمیان منعقدہ مذاکرات کامیاب ہوئے اور
زمیندار ایکشن کمیٹی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی کی یقین دہانی پر احتجاج موخر کردی وزیراعلی کی ہدایت پر صوبائی وزیرزراعت زمرک خان اچکزئی کی سربراہی میں زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندوں، کیسکو اور محکمہ توانائی کے حکام پر مشتمل کمیٹی قائم کردی کمیٹی زرعی ٹیوب ویلوں کے ذمہ کیسکو واجبات، بجلی کے میٹروں کی تنصیب، زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن سمیت دیگر متعلقہ امور پر سفارشات تیار کرے گی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی نے وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی وزیر زراعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے زمینداران نان شبینہ کے محتاج بن گئے تھے اگر معاملہ حل نہ ہوسکا تو زمیندار مجبوراً دوبارہ احتجاج کی طرف جائیں گے۔


