اسٹیبلشمنٹ نصیر آباد کی بدحالی اور پسماندگی کا زمہ دار ہے
نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو و ممبر مرکزی کمیٹی رفیق کھوسہ ضلعی صدر صحبت پور میر دوران کھوسہ نے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن کی خستہ حالی۔بدحالی اور پسماندگی کے زمہ دار ملک میں موجود اسٹیبلشمنٹ ہے۔جو نے اپنی مفادات اور منفی عزائم کی تکمیل کےلیے جاگیرداروں سرمایہ داروں اور غیر سیاسی لوگوں کو جعلی مینڈیٹ سے نوازتا رہتا ہے۔ اور انتخابات میں عوامی رائے کو مروڑ کر عوام پر مسلط شدہ نمائندے بیھٹاتا ہے۔2018 کے انتخابات میں صحبت پور میں نیشنل پارٹی کی جیت کو دھاندلی سے ہار تبدیل کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار قاہدین گزشتہ روز صحبت پور میں میر دوران خان کھوسہ کی رہائش گاہ میں پارٹی کارکنوں اور ہمدردوں بسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔بیان کے مطابق نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو کی صحبت پور کے دورے کے موقع پر نیشنل پارٹی صحبت پور کے صدر میر دوران خان کھوسہ نے صوبائی ترجمان کے اعزاز میں عصرانے کا اہتمام کیا۔عصرانے میں پارٹی کارکنان کے ساتھ علاقے کے معتبرین بھی موجود تھے۔نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بالعموم اور بلوچستان بالخصوص پسماندگی لاچارگی۔جہالت بےروزگاری اور غربت کی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔لیکن نام و نہاد حکمرانوں نے سب بہتر کے منفی و جھوٹے پروپگنڈے کا سہارا لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی بلوچستان کی نمائندہ قومی سیاسی جماعت ہے۔جو بابائے بلوچستان میر غوث بخش اور قائد جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی فلسفہ فکر پر عمل پیرا ہے۔جو ملک میں جمہوریت کے قیام ،آئین و قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آزادی اظہار رائے ، شفاف انتخابات۔غیر جانبدار و آزاد عدلیہ،قومیتوں کا احترام اور ان کے قومی وسائل پر ان بنیادی حق اختیار پر مشتمل ریاست کی تشکیل ہے۔ انہوں نے نیشنل پارٹی کے کارکنوں و ہمدردوں کو صحبت پور میں انتقامی طور پر ہراساں کرنے کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد نمائندہ نیشنل پارٹی کی عوامی سیاست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔اور ان کے سر پر نیشنل پارٹی سوار ہوچکا ہے۔ اس طرع کی منفی عمل نیشنل پارٹی کو عوام کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کراسکتا۔سیاسی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ سیاسی کارکن ایسے منفی اقدامات کے خلاف مزید منظم و مضبوط ہوتے ہیں


