عام آدمی مسائل کا حل چاہتا ہے
وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان ایک فضول بحث جاری ہے۔بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس(کراچی) میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی موجودگی میں 5ستمبر2020کوکراچی کے لئے جس 1100ارب روپے مالیت کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے اس کا سہرا کس کے سر باندھاجائے؟جبکہ عام آدمی اپنے بنیادی مسائل کا حل چاہتا ہے۔
اول: اسے پینے کے لئے صاف پانی چاہیئے جو اسے گھر کی دہلیز پر ریاست وصول کردہ ٹیکس کے عوض فراہم کرے، اسے ٹینکر مافیا سے مضر صحت انتہائی مہنگے داموں نہ خریدنا پڑے۔
دوم: اسے 24گھنٹے بجلی میسر ہو،لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلنگ کی لعنت سے جان چھوٹے۔ہر مہینے (یا مختصروقفوں سے)بجلی کے ریٹ بڑھانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
سوم: گھر سے دفترآنے جانے کے لئے سستی اور آرام دہ ٹرانسپورٹ دستیاب ہو۔منی بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر یا گیٹ پر لٹک کر سفر کرنے کی مجبوری لاحق نہ ہو۔
چہارم: آئین میں درج آرٹیکل کے مطابق اس کے بچوں کوجدیدعصری تقاضوں معیاری تعلیم مفت فراہم کی جائے۔
پنجم: علاج معالجے کی سہو لت فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست پوری کرے۔
ششم: اسے اور اس کے خاندان کی جان مال کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ چاروں جانب گھومتے لٹیروں (اسٹریٹ کرمنلز)کا خاتمہ کیا جائے۔ معصوم بچوں سے جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کا سلسلہ بند کرایا جائے۔
ہفتم: مہنگائی کی روک تھام کی جائے۔
ہشتم: پارک اور کھیلنے کے میدان لینڈ مافیا کے قبضے سے فوری طور پر خالی کرائے جائیں۔
نہم: بیروزگاری کاخاتمہ کیا جائے۔دیگر مہذب ممالک کی طرح بیروزگای الاؤنس فراہم کیا جائے۔پنشن کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں، خورد برد اور کرپشن کو پہلی ترجیح کے طور پر ختم کیا جائے۔
دہم: انتخابی نظام کو سستا، آسان، شفاف،آزادانہ اور دھاندلی سے پاک بنایا جائے۔
یاد رہے کہ کراچی، سندھ اور دیگر صوبوں میں بسنے والے شہری انسان ہیں، انہیں انسان سمجھا جائے، باوقار زندگی گزارنے کے لئے مہذب اور پرامن ماحو ل فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔گزشتہ چار دہائیوں سے ریاست اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے حوالے سے غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان ہوتے ہی سندھ حکومت کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ مذکورہ پلان صوبائی حکومت کا تیار کردہ ہے، بجٹ دستاویزات پیش کی جارہی ہیں۔اس دعوے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔پلان میں شامل اقدامات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔سب جانتے ہیں کہ پلان میں شامل تمام پروجیکٹس پرانے ہیں؛کے۔فورکوئی نہیں کہتا کہ یہ نیا منصوبہ ہے۔ٹرانسپورٹ کی شدید قلت دیرینہ مسئلہ ہے۔برسوں سے سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور مرمت کو ترس رہی ہیں۔سیوریج کا نظام ابتر ہے۔گٹر سارا سال ابلتے رہتے ہیں۔غلیظ پانی سڑکوں پر بہتا ہے۔نمازی مسجد نہیں جا سکتے ان کا لباس ناپاک ہو جاتا ہے۔عورتوں بچوں کے لئے آمد و رفت ایک پریشان کن مسئلہ ہے، مستقل روگ بنا ہواہے۔ صوبائی حکومت تسلیم کرے کہ گزشتہ12سال سے اس معاملے میں اس کی کارکردگی مطلوبہ معیار سے کم رہی ہے۔سندھ کے عوام پینے کے صاف پانی جیسی قدرتی نعمت سے محروم ہیں۔صاف پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ہزاروں سال سے انسان دریاؤں کے کنارے آباد ہونے کو ترجیح دیتاچلا آیا ہے۔موئنجودڑو،ہڑپہ، ٹیکسلا،اور بلوچستان میں آبادی ان علاقوں میں ملتی ہے جہاں پانی دستیاب ہے۔قحط سالی میں آبادی نقل مکانی کر لیتی ہے۔ پاکستان میں بارشوں کی کثرت اور قحط سالی کے دورانیئے ایک حقیقت ہیں۔سیلاب اور پانی کی قلت کا مؤثر علاج ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست اپنے تمام اختیارات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے انجام دیتی ہے۔آئین میں صوبوں اور وفاق کے اختیارات کی تقسیم درج ہے۔سوال یہ نہیں ہے کہ 1100ارب روپے کہاں خرچ کئے جائیں گے؟اصل سوال یہ ہے کہ کیسے خرچ کئے جائیں گے؟سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی مشاورت سے وفاق نے ایک فارمولہ طے کیا ہے کہ یہ رقم کیسے خرچ کی جائے گی؟یہ بات راز نہیں۔وفاق کو سندھ حکومت سے شکایت ہے کہ فنڈز کا استعمال شفاف نہیں۔سندھ حکومت سے کوئی بات نہیں چھپائی جارہی۔
پلان کا نام ہے:”کراچی ٹرانسفارمیشن پلان“
پلان کے لئے مختص رقم وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی مشاورت سے طے شدہ طریقہئ کار کے مطابق خرچ کی جائے گی۔اس میں اچانک ایسا کون سا اختلافی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے؟جس کا طے شدہ فارمولے میں ذکر موجود نہیں۔ پی سی ون سندھ حکومت نے تیار کیا ہے تو اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔بلوچستان کے تمام منصوبوں کا پی سی ون بلوچستان حکومت تیار کرتی ہے۔یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔نان اشوز پر فضول بحث کی بجائے عوام کے بنیادی مسائل حل کئے جائیں۔وفاق اور سندھ اس فضول بحث میں الجھ کر اپنی رنجشوں میں اضافہ کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔سہرا باندھنے کا وقت پلان کی تکمیل کے بعد آئے گاتب دیکھا جائے گا۔


