بیان بازی میں شدت سے گریز کیا جائے
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے مسلم لیگ نون کے تا حیات قائدنواز شریف سے انتہائی چبھتے ہوئے 10سوال پوچھے ہیں۔یہ سوال پرانے اور کئی بار ماضی میں بھی ان سے پوچھے جا چکے ہیں انہوں نے ماضی میں جواب دیا اور نہ ہی آئندہ کبھی دیں گے۔شیخ رشید جیسے تجربہ کار سیاست دان کی زبان پر مذکورہ سوال آنے ہی نہیں چاہیئے تھے۔یہ موقع نہیں تھا۔یاد رہے کہ نوازشریف کسی چور دروازے سے لندن نہیں پہنچے۔ذاتی مچلکے پر انہیں تمام محکموں سے اجازت ملی۔یہ بحث فضول ہے کہ انہیں علاج کی غرض سے لندن جانے کی اجازت کس نے دی؟وہ عدالتی حکم کے نتیجے میں بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوئے یا حکومتی رضامندی سے؟ یا دونوں کے اشتراک سے یہ سفر ممکن ہوا؟سچ یہ ہے کہ وہ لندن میں مقیم ہیں اور علاج کرائے بغیر واپس نہیں آئیں گے اور جب تک برطانیہ کی سرزمین پر ایک بھی کورونا کا مریض موجود ہے ان کا علاج نہیں ہوگا۔اب اس قطار میں جہانگیر ترین بھی دکھائی دیتے ہیں۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنے الزامات کی صفائی میں کوئی دستاویز لندن سے نہیں بھیجی جبکہ جہانگیر ترین کے بارے میں میڈیا اطلاعات ہیں کہ انہوں نے 14سو سے زائد صفحات پر جواب ارسال کر دیا ہے۔الزامات کے ذریعے اپنے سیاسی حریفوں کو ختم کرنا ممکن ہوتا تو عمران خان وزارت عظمیٰ کی کرسی تک کبھی رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ایک خاموشی تما م الزامات کو کھا جاتی ہے۔عمران خان اگر جواب دیتے تو آج تک ہر صحافی کو جواب دے رہے ہوتے۔خاموشی اختیار کی اور میڈیا کو چپ ہونا پڑا۔شیخ رشید کے 10سوال بھی وقت گزرنے کے ساتھ قصہئ پارینہ ہو جائیں گے۔حالات جس تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں یہ سوال حالات کے بہاؤ میں گم ہو جائیں گے۔آج کا جاندار سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی تقریر میں ایسی کون سی بات تھی جس نے پاکستانی سیاست میں ایک طوفان برپا کر دیا۔حکومت کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا 73سال بعد یہ بیانیہ اپنی جگہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوا؟ پوری حکومتی مشینری یک جان ہوکراس بیانیے کا سرکچلنے میں کیوں جت گئی؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی وقت پر برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی۔بھارت میں ایک بار بھی مارشل لاء نہیں لگایا گیا پاکستان میں چار مارشل لاء لگائے جا چکے ہیں۔برصغیر کی تقسیم سے پہلے مذہبی بنیادوں پر رہن سہن ہونے کے باوجود سیاست مل کر کی جاتی تھی۔اس لئے سیاسی رویہ دونوں ملکوں میں ایک جیسا تھا۔پاکستان میں یہ سوال اندر ہی اندر پرورش پاتا رہا کہ یہاں جمہوری تسلسل مختصر وقفوں کے بعد کیوں ٹوٹ جاتا ہے؟اس سوال کا مدلل جواب آج تک نہیں تلاش کیا گیا۔مشرقی پاکستان روز اول سے ڈھاکہ فال تک مغربی پاکستان سے شاکی رہا۔وجوہات یقیناً تھیں لیکن انہیں دور کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔مارشل لاء کے نفاذ نے فوج اور سیاست دانوں کے درمیان فاصلے پیدا کئے۔ پیچیدگیاں، الجھنیں،مسائل اور رنجشوں کو درست تناظر میں دیکھنے کی کوشش نہ ہونے کے باعث عدم اعتماد بڑھتا رہا۔سیاست بظاہرفوج کے حامیوں اور مخالفین میں بٹ گئی۔لیکن یہ کہنا کبھی آسان نہیں رہا کہ یہ تقسیم حقیقی تھی یا نمائشی تھی؟امریکی کیمپ میں جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ روسی اور چینی لٹریچر پڑھنا ملک دشمنی تصور کیا جانے لگا۔اگر امریکا روس کے مقابلے میں چین سے دوستی کا راستہ نہ اختیار کرتا اور اس مقصد کے لئے اسے پاکستان کی مدد درکار نہ ہوتی تو شائد چین اور روس ہمارے لئے آج بھی شجر ممنوعہ ہوتے۔پاکستان کی تاریخ بھی حالات و واقعات کی داستان ہے دیگر ممالک کی طرح اس نے بھی کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔کئی سبق سیکھے ہیں۔آج بھی سیکھنے کا عمل جاری ہے۔جو کچھ ہو چکا اس کے اسباب و علل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ہوگا۔یہ کام آسان نہیں مگر اس سے آنکھیں بند رکھنا بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔
دیکھنا ہوگا کہ مسائل کیا ہیں؟ان کی نوعیت اور تفصیلات کاباریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا عمل ابتدائی ایام ہی میں شروع ہو گیا تھا۔اختلاف رائے کو ملک دشمنی کہنا درست نہیں۔مثبت فکر اور اصلاحی سوچ کے ساتھ ملکی معاملات کو سدھارنے کی ضرورت کل بھی تھی آج بھی ہے اور آئندہ کل کو کو بھی رہے گی۔ہر ملک میں تھنک ٹینک ملک کو درپیش مسائل پر غور کرتے اور ان کا ممکنہ حل ریاست کے سامنے رکھتے ہیں۔عوام کو بے خبر رکھنے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔غربت، بیماری، جہالت اور بے روزگاری نے پاکستان میں ڈیرے جما رکھے ہیں۔ترقی اور خوشحالی کی راہ سے بھٹکنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ سستی بجلی ڈیم تعمیر کئے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ڈیم تعمیر کرنے کی شروعات تو ہوگئی ہیں مگر یہ وقت طلب کام ہے سات آٹھ سال لگتے ہیں۔ چھوٹے ڈیم کی تعمیر کے لئے بھی تین سے چار سال درکار ہیں۔دیر سے ہی سہی یہ کام شروع تو ہوا ہے۔معدنیات کی تلاش بھی رکی رہی یا عدم توجہی کا شکار رہی۔اس کے بد اثرات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔جو وقت گزر گیا اسے واپس نہیں لایا جا سکتا اس کا ماتم کرنے کی بجائے مستقبل کی جانب دیکھا جائے۔جفاکش عوام کو کام کرنے کا موقع دیا جائے تو آج بھی دکھوں کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے سستی بیان بازی اورگھٹیاالزام تراشی سے گریز کیا جائے۔مثبت اور تعمیری تنقید کی جائے۔عوام کو مشکلات سے نجات دلانے کے لئے اپوزیشن اور حکومت مل کر کام کریں۔فضول سوالوں میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔


