تمام ڈیم 3سال میں مکمل کرنے کی ہدایت
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزا ر احمد نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے:”بلوچستان میں پانی کی صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے۔صوبائی حکومت کو نہ اس کا ادراک ہے اور نہ ہی اس کا کوئی سدباب کیا ہے“۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ اس وقت شادی کور ڈیم اور میرانی ڈیم بھرے ہوئے ہیں،صوبے کے ڈیمز تین سال کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں،ہنہ جھیل مکمل بھر گئی ہے صوبے میں 5ڈیمزمکمل ہیں، 4اگلے سال مکمل ہوجائیں گے،صوبے میں 100ڈیمز کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، 40مکمل اور 60پرکام جاری ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام ڈیم 3سال میں مکمل کئے جائیں اور وندر سمیت سب کی سہ ماہی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔تعلیمی اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک روز قبل چیف جسٹس نے کہا تھا کہ بلوچستان کو کھربوں روپے کا بجٹ ملتا ہے، 80 فیصد کھا لیا جاتا ہے۔ اسکولوں میں باڑے بنے ہوئے ہیں،گائیں بھینسیں بندھی ہیں، کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، پتا نہیں بلوچستان کا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟محکمہ تعلیم کی جانب سے جس فنڈ کا ذکر کیا گیا ہے اس میں تو سارے اسکول فائیو اسٹار بن سکتے ہیں۔اگر افسر جاکر بتائیں گے تو وہاں طلبہ، ٹیچرز اور دیگر سامان موجود ہوگا بعد میں کچھ نظر نہیں آئے گا۔جسٹس فیصل عرب نے کہا:”بغیر اطلاع جائیں تو پتہ چل جائے گا کیا ہورہا ہے؟سندھ میں ٹیچر رکشے چلا رہے ہیں، انہیں پاکستان کے ہجے بھی نہیں آتے!“، سیکرٹری ایجوکیشن نے عدالت کو بتایا کہ 14ہزار اسکولوں کے لئے صرف 4ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ ہے باقی 46ہزار اساتذہ کی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔جسٹس فیصل عرب نے بجا طور پر درست کہا ہے کہ اصل حقائق جاننے کے لئے بغیر اطلاع اسکولوں کا معائنہ کیا جائے ساری حقیقت کھل جائے گی۔ سارا کچا چھٹا سامنے آجائے گا۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ منظر بلوچستان جیسے حساس ساحل و وسائل سے مالامال صوبے کا بیان کیا جا رہا ہے۔80فیصد فنڈز کھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک کروڑ میں سے صرف 20لاکھ روپے منصوبے پر خرچ کئے جاتے ہیں اگر 10فیصد ٹھیکیدار لے لے تو باقی صرف 10لاکھ روپے رہ جاتے ہیں۔سب جانتے ہیں ایک کروڑروپے کا منصوبہ 10لاکھ روپے میں ہرگز نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔80فیصد کہاں جاتا ہے؟ اس کا کھوج لگانا مشکل کام نہیں،سیکرٹری تعلیم کے پاس تقسیم کا پورا چارٹ موجود ہوگا اسے جان کی امان دی جائے توچند منٹوں میں نوازشریف کے سمدھی اسحاق ڈار کی طرح ساری تفصیل معہ چیک نمبرزاپنے ہاتھ سے لکھ کر دے دے گا۔بے ایمانی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پوری ایمانداری سے کی جاتی ہے۔تمام چوروں کا مفاد یکساں ہونے کی بناء پر سب آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔بلوچستان کے ایک بیوروکریٹ کے آمدنی سے زائد اثاثوں کی تفصیل سامنے آئی تھی عام آدمی کے 14طبق روشن ہو گئے تھے۔کرپشن کے تمام راز ہر بیوروکریٹ کے سینے میں دفن ہیں مناسب سرجری سے سامنے لائے جا سکتے ہیں۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ”مناسب سرجری“ کون کرے گا؟اور کب کرے گا؟عدلیہ نے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے جب سے یہ ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ہے اسے طاقت ور چوروں کی جانب سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ججز کو پاکستان کی سرزمین ”یوم حساب“بنانے کی کھلی دھمکیاں دی گئی ہیں۔پراناقصہ نہیں، لوگوں کے حافظے میں محفوظ ہوگا۔ بلوچستان میں 80فیصد فنڈز کھانے کی روایت سے بھی سب واقف ہیں لیکن اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہیں سب کو اپنی کھال اور جان عزیز ہے۔ابھی کھل کر سچ بولنے کا موسم نہیں آیا۔لیکن ہوا میں سرگوشیاں شروع ہو گئی ہیں۔چیف جسٹس پاکستان کی زبان تک یہ سوال پہنچ چکا ہے کہ 80فنڈز کس نے کھائے ہیں؟
عام آدمی سے صوبے کے وزیر اعلیٰ تک ہر شخص جانتا ہے:پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ پودے، جانور اور انسان جاندار ہیں انہیں زندہ رہنے کے لئے ہوا کے بعد صاف شفاف پانی مناسب مقدار میں ہر جاندار کودرکار ہے۔بلوچستان کے رہنے والے تمام لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ قحط سالی اور بارشیں مختصر وقفوں کے بعد ایک دوسرے کی جگہ لیتے ہیں۔بارشوں کا پانی گزشتہ 55 برسوں میں سیلاب کی صورت میں سمندر برد کر دیا گیا۔ڈیم تعمیر کرنے کی زحمت کسی حکومت نے نہیں کی۔قحط سالی کے موسم بھی بلوچ عوام نے اپنی جان پر جھیلے۔اب عدلیہ نے پانی کے مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے تو وندر ڈیم کے بھاگ بھی جاگ اٹھے ہیں۔اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے سہ ماہی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔اس سے بروقت علم ہوتا رہے گا کہ کتنے فنڈز خرچ ہوئے اور ان سے کتنا تعمیراتی کام ہوا۔ہیرا پھیری کے امکانات خاصی حد تک کم ہوجائیں گے۔چیک اینڈ بیلنس (جزاء و سزا) کا نظام نہ ہو تو ہر شخص خود سر ہوجاتا ہے۔حصہ بقدر جثہ مانگنے کا چلن دھیرے دھیرے مستحکم روایت کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔بزرگوں نے اسی لئے کہا ہے؛”گربہ کشتن روز اول“۔سپریم کورٹ نے ڈیمز کے حوالے سے سہ ماہی بنیادوں پر تفصیل جمع کرانے کا حکم دے کر 80فیصد فنڈز کھانے کا راستہ ایک حد تک بند کر دیا ہے۔کرپٹو یا ڈیجیٹل کرنسی کے دور میں خورد برد آسان نہیں رہے گی۔عدالتیں کرپٹ افسران کی ذہنیت درست کرنے کاکام پہلے ہی شروع کر چکی ہیں۔تمام ڈیم 3سال میں مکمل کرنے کی ہدایت اسی عزم کا اظہار ہے۔عام آدمی کو یقین ہے کہ آنے والا کل گزرے ہوئے کل سے کہیں بہتر ہوگا۔


