امریکی صدر قرنطینہ میں

شائد پاکستانیوں کی اکثریت کے لئے اس خبر میں کوئی جاذبیت نہ ہو کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کا شکار ہوکر امریکا کی خاتون اول میلانیا کے ساتھ 14دن کے لئے قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔لیکن پاکستانی شہری اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کے قریب کسی امیدوار کا اپنی انتخابی مہم چھوڑ کر قرنطینہ میں چلے جانا کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم قرنطینہ میں بھی جاری رکھیں گے۔پاکستانیوں کو اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ امریکا میں تاحال کوروناپرقابو نہیں پایا جا سکا۔یاد رہے وہاں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 2لاکھ 13ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔امریکی صدر نے کورونا کے آغاز پر کہا تھا کہ اگر امریکا میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2لاکھ تک رہی تو ہم اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں گے۔ اُس وقت ”2لاکھ ہلاکتیں“ بہت بڑی تعداد نظر آتی تھی آج ہلاکتوں کی تعداد”خوش قسمتی“ والی حد عبور کر چکی ہے، مگر ہلاکتوں کا سلسلہ تھما نہیں، جاری ہے۔کسی کو علم نہیں کتنے امریکی اس ننھے سے وائرس کے ہاتھوں جان کی بازی ہار جائیں گے؟ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی کورونا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، ایک لاکھ 32ہزار ہلاکتیں اور متأثرین کی تعداد64لاکھ40ہزار تک پہنچ گئی ہے۔اگلے روز مرنے والے5سو سے زائد تھے۔کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان اس لحاظ سے واقعی ”خوش قسمت“ ہے کہ مجموعی ہلاکتوں کی تعدادساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔روزانہ ہلاکتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم احتیاطی تدابیر سے لاپروائی کی گنجائش نہیں۔تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال نہیں ہو سکیں۔بعض اسکولوں اور ہوٹلوں کی بندش سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا کم ہوا ہے ختم نہیں ہوا۔عوام ماسک پہن کر ہجوم میں جائیں خطرہ مول نہ لیا جائے۔
پاکستان کو کورونا سے ہٹ کر بھی کئی مسائل کا سامنا ہے۔کورونا سے پہلے بھی پاکستان میں بیروزگاری، غربت،بیماری اورجہالت بے قابو تھی۔لاقانیت سے بچہ بچہ واقف ہے۔ یہ سب کچھ سال دوسال میں نہیں ہوا گزشتہ کئی دہائیوں کی غفلت اورعدم توجہی کے باعث مسائل کے انبار لگے ہیں۔ بگاڑ کی اصلاح کے لئے بھی وقت درکار ہوگابشرطیکہ حکومت صدق دل سے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے نیم دلانہ اقدامات اور صرف نعرے بازی سے کچھ نہیں ہوگا۔اپوزیشن اپنی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ دوسال تک کی مصلحت پر مبنی خاموشی اور تصادم سے گریز کی پالیسی بے نتیجہ ثابت ہوئی۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق،ناچار اب تصادم کاراستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔پہلا جلسہ کوئٹہ میں تبدیل شدہ حکمت عملی کی جانب قدم ہوگا۔اس کے بارے میں بعض گھر کے بھیدی یہ کہہ رہے ہیں کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی شرکت مشکوک ہے۔اس کا سبب مسلم لیگ نون کے رہنماخواجہ آصف کا حالیہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا ہے وہ اپنے سابقہ بیان پر قائم ہیں کہ آصف علی زرداری پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔اس بیان کے بعد نواز شریف کی ہدایت پر اگرچہ معذرت کر لی گئی ہے لیکن جو دوریاں پیدا ہو چکی ہیں ایک معذرت سے ختم ہونا مشکل ہے۔پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں مختلف الخیال ہیں اس کا اعتراف خود مریم نواز نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کیا ہے۔یہ نیااتحاد ماضی میں بننے والے اتحادوں کے برعکس کوئی مشترکہ نعرہ نہیں لگا سکتا۔ پی این اے نظام مصطفیٰ کے نعرے پر کھڑی کی گئی تھی۔آج یہ نعرہ ریاست مدینہ کی شکل میں پی ٹی آئی کے پاس ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کی مذہبی شناخت ہے جبکہ دیگر جماعتیں الگ سوچ کی حامل ہیں۔قومیت کے نام پر وجود میں آنے والی پارٹیاں اپنی تنظیمی کمزوریوں کا شکار ہو کر عوامی حمایت سے ایک تکلیف دہ حد تک محروم ہو چکی ہیں۔پی ڈی ایم جیسا ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد،کسی مشترکہ پروگرام اور مناسب ہوم ورک کے بغیرحکومت کوگرانے اور گھر بھیجنے کے لئے ناکافی دکھائی دیتاہے۔
نوازشریف کے بیرون ملک قیام اور شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ کے لئے حکومت مخالف تحریک چلانا آسان نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمٰن کے دل سے ابھی گزشتہ آزادی مارچ کی رنجشیں پوری طرح دور نہیں ہوئیں۔ مارچ میں حکومت کو گھر بھیجنے کا وعدہ ہوا میں معلق ہے زمینی ضامن اس کے وجود سے انکاری ہیں۔استعفے دینے کا فیصلہ حالات دیکھ کر کیا جائے گا۔مسلم لیگ نون کے اندر ٹوٹ پھوٹ کاآغاز ہو گیا ہے۔نوازشریف کا بیانیہ سوائے مریم نواز کے کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکتا۔پرویزرشید وغیرہ ڈان لیکس کا ردعمل سامنے آتے ہی نون لیگ کے لئے بوجھ بن گئے تھے۔نون لیگ کے اراکین صوبائی اسمبلی اپنی قیادت سے کہنے لگے ہیں:”مجھے کیوں نکالا؟ پارٹی کو پارٹی رہنے دیں، خاندانی جاگیر نہ بنائیں“۔بعض مبصرین کا خیال ہے نون لگے کے رہنما ہاتھ اٹھانے کی حد تک نواز شریف کے ساتھ ہیں دل سے ساتھ نہیں ہیں۔آج حکومت کو ہٹانے اور گھر بھیجنے کے لئے ایک نئی پارٹی کی ضرورت ہے۔پی ڈی ایم جیسا اتحاداپنی بعض ساختی کمزوریوں کے باوصف اتنا بڑا کام نہیں کرسکے گا۔اس میں شک نہیں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے وہ کافی حد تک موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں مگر آزمودہ لوگوں میں کوئی ایسی کرشماتی شخصیت نظر نہیں آتی جسے عوام اپنانجات دہندہ سمجھ کر اس کے گرد جمع ہوجائیں۔اپوزیشن کو اس حوالے سے سوچ بچار کرنا ہوگی۔صرف خواہش کے بل پر اتنی بڑی کامیابی ملنے کی نہ ماضی میں نظیر ملتی ہے اورنہ ہی موجودہ حالات ایسا کوئی نیااشارا دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کو عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہوگا۔کئی امتحانوں سے گزرنا ہوگا۔ آئندہ معجزات رونما ہونے کے امکانات کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔بنیادی کردار میرٹ ادا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں