پی ڈی ایم نواز، زرداری اورمولانا کی کرپشن چھپانے کا الائنس، آئی لینڈ آرڈیننس پر نظر ثانی ہونی چاہیے، سردار یار محمدرند
کوئٹہ؛بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصا ف کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نواز شریف، آصف زرداری اور مولانافضل الرحمن کی کرپشن چھپانے کا الائنس ہے جسے عوام مسترد کردیں گے جو لوگ اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کی مدد سے اس مقام تک پہنچے آج وہی ملک کے خلاف باتیں کررہے ہیں،نیب اور چیئرمین نیب پی ٹی آئی نے نہیں بنائے دو سال تک این آر او نہ ملنے کی وجہ سے آج مارو یا مر جاو کی پالیسی شروع کردی گئی ہے پی ٹی آئی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئی ہے نہ کہ کسی آمر کی مدد سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں ہم کرپٹ ٹولے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،پاکستان آئی لینڈڈویلپمنٹ اتھارٹی کے معاملے پر نظرثانی کی جانی چاہئے کوشش ہے کہ بی این پی جلد ہی حکومتی اتحاد کا حصہ بنے۔یہ بات انہوں نے منگل کو ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل، رکن قومی اسمبلی منورہ منیر، ارکان صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی،فریدہ بی بی رند،پی ٹی آئی سینٹرل ریجن بلوچستان کے صدر ڈاکٹرمنیر بلوچ،جنرل سیکرٹری عبدالباری بڑیچ،نوابزادہ امین اللہ رئیسانی،نوابزادہ شریف جوگیزئی،حاجی سیف اللہ کاکڑ،سید بسم اللہ آغا،ذولیخا مندوخیل سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ایجنڈا ابتک سمجھ میں نہیں آرہا وہ جماعت جو تین مرتبہ اقتدار میں رہی اوراسے کرپشن،نا اہلی اور فوج کے ساتھ ٹکراو کی پالیسی سے اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے و ہ آج ہماری حکومت پرالزام لگارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا ملک میں کوئی بھی چیف آف آرمی اسٹاف ٹھیک نہیں تھا کہ انکی ان سے نہیں بن سکی یہ لوگ ملک کو مغلیہ سلطنت بناناچاہتے ہیں مریم نواز نے خود کہا ہے کہ ہم حکمران خاندان ہیں بی بی صاحبہ شاید بھول گئی ہیں کہ انکے خاندان نے کہاں سے سفرشروع کیا تھاجو لوگ مارشل لاء اور آمروں کی گود میں پلے آج وہی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں سے ٹکرانے کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج اسٹیبلشمنٹ،حکومت ایک پیج پرکام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک ترقی کرے اور امن قائم ہو لیکن جب مسلم لیگ(ن) برسراقتدار ہوتی ہے تو سب کچھ ٹھیک اور اب جب انہیں عوام نے مسترد کردیا ہے تو سب خراب ہے شاہدخاقان عباسی بتائیں کہ ائیر بلیو پی آئی اے کے مقابلے میں کیسے اتنی آگے نکلی ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے قرضے لیکر ڈوبانے کی سازش کی گئی جسے عمران خان کی حکومت نے ناکام بنایا 30سال تک اقتدار میں رہنے والوں نے بلوچستان کیلئے کتنے میگا منصوبے بنائے کیا انہیں پنجاب کے پسماندہ علاقے نظر نہیں آتے تھے میاں صاحب اینڈ کمپنی کو ملک لوٹنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے اب انکی اپنی جماعت کے لوگ بھی کرپشن کا دفاع نہیں کررہے۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے دورمیں این ایف سی کے ذریعے 850ارب روپے کے منصوبے کہاں پرہیں بلوچستان میں صرف کاغذات میں منصوبے بنائے گئے اس دور میں ریکارڈ کرپشن ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک بنانے کا منصوبہ دراصل جنرل پرویز مشرف نے اپنی کابینہ کے سامنے رکھاتھا جو آج تکمیل کے مراحل میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں پہنچا ہے سی پیک اتھارٹی بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے اور ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کل جنہیں چور اورڈاکو کہتے تھے آج انہی کو اپنی چھتری تلے اپنی سیاسی طاقت فراہم کررہے ہیں جنہوں نے وسائل لوٹے،جمہوریت کو نقصان پہنچایا مولانا صاحب انہی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مدارس کے طالب علموں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے اختلاف اپنی جگہ لیکن مولانا صاحب کو سسٹم اور جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا پی ڈی ایم حکومت گرانے کا الائنس ہے کل تک قوم پرست جن کے خلاف تھے آج انہی کا ساتھ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف پر اربوں روپے کی کرپشن ثابت ہوئی ہے میاں صاحب اور زرداری صاحب نے ایک دوسرے پر کیس بنائے میاں نوازشریف جعلی رپورٹس بناکر دھوکے سے ملک سے فرار ہوئے اور لندن جاتے ہی ٹھیک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا پردہ عوام کے سامنے فاش ہوچکا ہے پی ٹی آئی عوام کے ووٹوں اور22سالہ جدوجہد کے بعد منتخب ہوکر ایوانوں میں آئی ہے عمران خان کسی آمرکی گود میں بیٹھ کر وزیراعظم نہیں بنے جب دو سال تک این آر او نہیں ملا اور کسی بیرون ملک سے مدد بھی نہیں آئی تو میاں نواز شریف مارو یا مرجاو کی پالیسی پر گامزن ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کا ہر ایک کارکن پی ڈی ایم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگا مودی اوراسکے دوستوں کے منصوبے کے عمران خان نے ناکام بنادیا ہے پی ڈی ایم کی کامیابی سے ملک دشمن عناصر کا فائدہ ہوگا عمران خان نے نہ پہلے ان لوگوں کی پرواہ کی اور نہ ہی آئندہ کریں گے پی ٹی آئی حکومت کرپٹ ٹولے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ سردا ریارمحمدرند نے کہاکہ قوم پرست جماعتیں 72سال تک بلوچستان کے ساتھ زیادتی کے ذمہ داروں کی سازشوں کاحصہ نہ بنے اگر وہ انکا ساتھ دیں گی تو کل عوام ان سے سوال ضرور کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں سرداریارمحمد رند نے کہا کہ بی این پی کی دل سے عزت کرتے ہیں انکے مسائل تھے جو حل نہیں ہوئے انکے پاس بلوچستان سے مینڈیٹ بھی ہے کوشش ہے کہ انکے مسائل کو حل کرکے دوبارہ انہیں حکومت کا اتحادی بنائیں تاکہ وہ جمہوری نظام کو مضبوط کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ سردار یارمحمد رند نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پی ٹی آئی نہیں بلکہ جام کمال خان حکومت کی اتحادی ہے ہم بھی جام حکومت کے اتحادی ہیں اے این پی ہمارے اتحاد کا حصہ نہیں ہے اتحادیوں کے درمیان تحفظات ہوتے ہیں جن پر مل بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں پارٹی اور ورکروں کے مسائل اٹھائے تھے جس پر وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے دوران بھی ذکرکیا ہے امید ہے کہ مسائل حل ہونگے۔ سردار یارمحمدرندنے کہا کہ پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی قانون پرنظرثانی کی جانی چاہئے 18ویں ترمیم کے بعد یہ اختیارات صوبوں کے پاس ہیں اگر ایسی اتھارٹیاں صوبے بنائیں تو انہیں اسکا فائدہ ہوگا وفاق کو چاہئے کہ پہلے وہ سندھ اوربلوچستان کے تحفظات کو دور کرے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں اصلاحات کا کام جاری ہے 400گھوسٹ ملازمین کے کیس نیب کو بھجوادیئے ہیں اگلے مرحلے میں پشین،نصیرآباد سمیت صوبے صوبے کے دیگر علاقوں میں کارروائی کی جائے گی اگر محکمہ تعلیم میں کسی کے پاس کرپشن کے شواہد ہیں تو وہ سامنے لائے ہم کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لنڈی کھوسہ میں پیش آنے والے واقعہ پر افسوس ہے اس میں خیر کا کردارادا کروں گا۔اس موقع پرموقع پر بات چیت کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کے مدارس میں لوگ اپنے بچوں کو پڑھنے بھیجتے ہیں نہ کہ بلاول،آصف زرداری اور نواز شریف کی کرپشن بچانے کیلئے جلسوں میں شرکت کیلئے بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد میں دراڑیں آچکی ہیں جلسے کی تاریخ میں تبدیل اسکا واضح ثبوت ہے۔


