بی یو جے کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے میڈیا کی آزادی پر قدغن کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی کال پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے میڈیا کی آزادی پر قدغن، صحافیوں کی جبری برطرفی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی و دیگر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرہ کی قیادت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، مرکزی سینئر نائب صدر سلیم شاہد، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین، کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن نے کی۔اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے بھی مظاہرے میں شرکت کرکے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کی۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ یہ وقت ایکشن کا ہے ملک بھر میں 13سے زائد علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ویج بورڈ کے حوالے سے مالکان نے وعدہ کیا تھا کہ مکمل ادائیگی ہوگی مہلت کی استدعا کی جا رہی ہے لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ تحریری معاہدہ ہو میڈیا کارکن مشکل دور سے گزر رہے ہیں میڈیا بیوروز کی بندش باعث افسوس ہے مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کا گزارہ مشکل ہو رہا ہے تنخواہ سے ہی ایک صحافی اپنے گھر کا چولہا چلا رہا ہو تا ہے جب تنخواہ میں کٹوتی ہوگی تو وہ اپنے گھر کا چولہا کیسے چلائے گا، انہوں نے کہا کہ اپنے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھائیں گے حکومت ہو یا اخباری مالکان ہم احتجاجی تحریک شروع کریں گے جب تک مسائل حل نہیں ہوں گے احتجاج جاری رہے گا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر سلیم شاہد نے کہا کہ ہردور میں میڈیا ورکرز کو روزگار سے محروم کیا جا تارہا ہے ریڈیو پاکستان سے بیک جنبش قلم 700 سے زائد ملازمین فارغ کردئیے گئے، مالکان کے پاس پیسے تو موجود ہیں لیکن میڈیا مالکان صرف اپنا منافع دیکھتے ہیں جب کسی کا رزق چھیننے کی کوشش کریں گے تو آپ سے آپ کا رزق چھینا جائے گا۔ اس موقع پربلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین نے کہا کہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد میڈیا ورکرز کی برطرفی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، غیر اعلانیہ سنسر شپ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ بزور شمشیر صحافیوں کو برطرف کیا جا رہا ہے، میڈیا ورکرز کو جینے کا حق دیا جائے، بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو تاحال جاری ہے، مختلف میڈیا ہاؤسز میں کئی کئی ماہ سے میڈیا ورکرز تنخواہوں سے محروم ہیں بلکہ ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی بھی جاری ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مختلف ٹی وی چینلز ڈان، کیپٹل اور 24 نیوز نے اپنی بیوروز بند کئے ہیں ملک کی سیاسی جماعتیں دیگر مطالبات کے ساتھ میڈیا ورکرز کی بحالی اور مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کریں۔ کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن نے کہا کہ میڈیا بہت برے حالات سے گزر رہی ہے ہمیں اپنے صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمیشہ میڈیا ورکرز کو آگے کر دیا جاتا ہے لیکن مسائل کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ نہیں ہوتا ورکرز کو تنگ کیا جا رہا ہے صحافیوں کا صحافت کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس سے منسلک ہو کر اپنے بچوں کیلئے روزگار کا ذریعہ معاش بنائیں، ایک سازش کے تحت ورکرز کو روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے ہمیں مل کر ملک گیر احتجاج کرنا چاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر جنرل ر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے یوٹرن ایک منقولہ بن چکا ہے میڈیا ورکرز کے مسائل کا حل حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، بلوچستان میں روزگار نہیں میڈیا اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے ان تمام مسائل پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے میڈیا ہاؤسز کی بندش بلوچستان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے بلوچستان کو نظر انداز کرنے کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے، پاکستان مسلم لیگ ن صحافیوں کے ساتھ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں