کشمکش۔۔۔۔۔!

تحریر: رشید بلوچ
ایک ہفتے کی چوں چرا کے بعد بلآخر نواب ثنا اللہ زہری اور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے محدود عوامی اجتماع کے اندر بڑے سخت لب و لہجے میں ساتھیوں کے ہمراہ ن لیگ اور نواز شریف سے اپنی راہیں باقاعدہ طور پر جدا کردیں،نواز متنازعہ بیانیہ کو جواز بنا کر ن لیگ چھوڑنے کا آغاز بلوچستان سے ہوگیا ہے،یہ پہلا موقع نہیں ہے جہاں بلوچستان نے بغاوت کرنے میں پہل کی ہو قبل ازیں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء اور اسکے بعد نواب ثنا اللہ زہری کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں مسلم لیگ ن سے بغاوتوں کی مثالیں موجود ہیں، اب یہ حالات کی نزاکت ہے یا فطرت کی مجبوری کل کے باغی گروپ کا سربراہ اور ق لیگ بلوچستان کا موجب بننے والا شخص ساتھی بن گیا اور کل کا ساتھی آج کٹر مخالف،بہر حال جو بھی ہو لیکن بلوچستان نے حسب سابق اپنی روایت بر قرار رکھا،۔۔۔۔۔۔
نواب ثنا اللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ کے استعفیٰ دینے سے نہ مسلم لیگ ن کو کوئی خاص نقصان ہونے والا ہے اور نہ نواب ثنا اللہ زہری اور جنرل (ر ) عبدالقادر بلوچ نے گھاٹے کا سودا کیا ہے،دونوں فریق اپنے اپنے دائرے میں مطمئن نظر آرہے ہیں،اس تمام صورتحال میں دونوں فریقوں کی ناراضگی سے پیپلز پارٹی نے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کو آغاز کر دیاہے،2013 کے بعد بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا نام لیوا کوئی نہیں رہا،پیپلز پارٹی کے بوجھ کو علی مدد جتک اپنے کاندھوں پر لیئے کھڑا ہے،جنوری 2018میں نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والے ن لیگ کے باغی ارکان کو آصف علی زرداری کی بھر پور حمایت حاصل تھی،آصف علی زرداری کئی بار اپنی گفتگو میں بلوچستان میں ن لیگ حکومت گرانے کا برملا اعتراف کر چکے ہیں، اس وقت کے ن لیگی باغی ارکان نے آصف علی زرداری کو کامل یقین دلایا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات سے پہلے سب کے سب باغی الیکٹیبلز پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گے اور آنے والی صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی،بلوچستان جہاں پیپلز پارٹی کو ایک سیٹ کی امید نہیں تھی اسے بیٹھے بٹھا ئے 18-20 سیٹ پلیٹ میں ملنے کی آس پیدا ہوگئی تھی،آصف علی زرداری نے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں مرحوم عبدالمجید بزنجو (اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے والد) کے گھر تشریف لائے تھے،آصف زرداری کی آمد کا بظاہر مقصد میر عبدالمجید بزنجو کے چچا کی فاتحہ خوانی تھی لیکن پس پردہ یہ طے کرنا تھا کہ باغی گروپ کب اور کیسے پیپلز پارٹی میں شامل ہوگا،کافی گفت و شنید کے بعد آصف علی زرداری کو بتا گیا کہ عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی باغی گروپ اکھٹے پیپلز پارٹی میں شامل ہوگا، لیکن اسکے بعد حالات نے کروٹ بد ل لی تمام باغی ارکان نے بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے اپنی الگ جماعت کی بنیاد رکھ دی،اگر اس وقت حالات پہلو تہی نہ کرتیں تو آج بلوچستان عوامی پارٹی کے بجائے بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت معرض وجود میں آجاتی،بلوچستان نیشنل پارٹی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکوت کا حصہ ہوتی لیکن حالات نے پیپلز پارٹی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا،ہر طرف مایوسی پھیل گئی اس مایوسی اور نا امیدی نے بہت ساری ناراضگیوں کو جنم دیا اور دوریاں پیدا کیں۔۔۔۔۔
نواب ثنا اللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ کی ن لیگ سے علیحدگی کی باز گشت کے بعد ایک بار پھر پیپلز پارٹی بلوچستان میں متحرک ہوگئی ہے، آصف علی زرداری کے حکم پر قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر سلیم مانڈی والا،سردار نبیل گبول،سردار عمر گورگیج،پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک نے نواب ثنا اللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ سے رابطے شروع کر دیئے ہیں،کراچی اور کوئٹہ میں ملاقاتوں کا ایک راؤنڈ بھی مکمل ہوگیا ہے، ان ہونے والی ملاقاتوں میں نواب ثنا اللہ زہری اور جنرل عبدالقادر بلوچ کو پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیدی گئی ہے،اطلاع یہی ہے کہ ن لیگ کے دونوں ناراض رہنماؤں نے پیپلز پارٹی میں مشروط طور پر شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کو شرائط بھی پہنچا دیئے گئے ہیں،چند شرائط میں سر فہرست شرط یہ رکھی گئی ہے کہ پیپلز پارٹی کی بلوچستان میں اکثریت ہونے کی صورت میں وزارت اعلی کیلئے قیادت نواب ثنا اللہ زہری کو نامزد کرے گی،ان شرائط کے رکھے جانے بعد دونوں ناراض ارکین کی ایک حتمی ملاقات بلاول بھٹو زرداری سے ہونا طے پا یا ہے،اب بلاول بھٹو پر منحصر ہوگا کہ وہ شرائط کو قبولیت بخشیں گے یا ان میں ترمیم کرکے حامی بھریں گے اور ترامیم کی صورت میں دونوں ناراض رہنما پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں؟ یہ الگ قضیہ ہے، چونکہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت گلگت بلتستان میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں اس لیے انتخابات کے بعد ہی ملاقات کا شیڈول طے کیا گیا ہے،دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کی طرف سے ناراض اراکین سے چیئرمین سینٹ میر صادق سنجرانی نے بھی رابطے شروع کر رکھے ہیں،اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں اراکین کس پارٹی کی جانب راغب ہوں گے تاہم زیادہ گمان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سنجیدہ بات چیت چل رہی ہے۔۔۔۔
پیپلز پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے درمیان Understanding نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران بن گئی تھی ان دو سالوں کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان مزید قربتیں بھی بڑھ گئی ہیں اگر نواب ثنااللہ زہری ان حالات میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گے تو بی این پی اور پیپلز پارٹی میں دوریاں پیدا ہوں گی،دوسری جانب پی ڈی ایم کے ساتھ جڑا ہوا پیپلز پارٹی کا باریک سا دھاگہ بھی ٹوٹ جانے کا احتمال ہے، چونکہ سیاست میں دوستی اور دشمنی کوحتمی تصور نہیں کیا جاتا تو گمان بھی یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کسی ناراضگی کو خاطر میں لائے بغیر کوشش کرے گی کہ بلوچستان میں اسے مضبوط الیکٹیبلز میسر آجائیں تاکہ آنے والے وقت میں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کا بھرم قائم کیا جاسکے۔۔۔۔
پیپلز پارٹی نہ صرف بلوچستان میں بلکہ پنجاب میں بھی الیکٹیبلز کی تلاش میں ہے نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ سے جتنے پتنگ کٹتے جائیں گے پیپلز پارٹی انہیں ڈوریوں سمیت لوٹنے کی کوشش کرے گا،پیپلز پارٹی نے بھر پور تیاری پکڑ لی ہے کہ ن لیگ کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا یاجائے،بلاول بھٹو زرداری نے شروع سے نواز شریف بیانیہ سے اتفاق نہیں کیا ہے ایک طرح سے ان لوگوں کو پیغام بھی ہے جو ن لیگ کی حالیہ بیانیہ کی وجہ سے اسے چھوڑنا چارہے ہیں،اگر گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی چند سیٹیں لانے میں کامیاب ہوگئی تو پارلیمنٹ میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوگی وہ بہتر انداز میں ڈیل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی،اس کشمکش میں کون جیتے گا اور ہارے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں