چیئرمین نیب کو عاصم سلیم باجوہ کے اثاثے نظر نہیں آرہے؟ شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے خلاف ایل این جی ریفرنس کو رام کہانی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ آج کرپشن عروج پر ہے مگر پکڑنے کی کوشش نہیں کی جا رہی، چیئرمین نیب کو عاصم سلیم باجوہ کے اثاثے نظر نہیں آرہے؟ الیکشن ریفارمز پر سلیکٹڈ حکومت سے کوئی بات نہیں کریں گے۔جمعرات کوسابق وزیر اعظم اور رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 26 صفحے کی چارج شیٹ دی گئی ہے، جس کے 26 نکات ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ریفرنس میں 10اور 9 صفحے ہیں جبکہ چارج شیٹ 26 صفحے کی ہے، سیاستدانوں کی بے عزتی کرنے کے لیے الزامات کی فہرست لگائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا عوام کے ووٹ سے منتخب ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے، کیا وزیر اعظم ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے؟شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیمرے لگائیں اور عوام کو دکھائیں کہ کون سی چارج شیٹ لگائی ہے، ڈھائی سال میں پارلیمان میں عوام کی کوئی بات نہیں ہوئی، غیر نمائندہ، متنازع حکومت سے کوئی بات نہیں کریں گے۔اْن کا کہنا ہے کہ بات کا وقت تھا، پارلیمان تھا، موقع تھا، جمہوری عمل بڑھانے پارلیمان میں آئے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بدنصیبی ہے کہ ملک میں کرپشن آج عروج پر ہے تاہم کرپشن کو پکڑنے کی کوشش ہی نہیں کی جا رہی۔ ایف آئی اے کا افسر کہتا ہے چینی میں اربوں روپے کی چوری ہو رہی تو افسر کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ عاصم سلیم باجوہ سے نیب کیوں نہیں پوچھتا؟ نیب چیئرمین کو ان کے اثاثے نہیں نظر آتے؟ 13 سوالنامے میں نے بھرے ہیں،عاصم سلیم باجوہ کو بھی سوالنامہ بھیجا جائے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ الیکشن ریفارمز وہاں ہوتے ہیں جہاں کوئی نظام موجود ہو،سلیکٹڈ حکومت سے کوئی بات نہیں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں