فکس میچ کے ذریعے نواز شریف کو نکال دیا گیا، مریم نواز

مریم نواز نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ تین سال تک این آر او نہ دینے کا اعلان کرنے والا خود این آر او مانگ رہا ہے لیکن تابعدار کو این آر او نہیں ملے گا۔

مریم نواز نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے زندہ باد لاہوریو کا نعرہ لگایا اور آج زندہ دلان لاہورں نے خوش کردیا ہے، جس نے دیکھنا ہو دیکھ لو نہ صرف مینار پاکستان بلکہ پل اور ارد گرد کی سڑکوں میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جلسے کے منتظمین نے بتایا تھا کہ یہاں ہزاروں کرسیاں لگائی گئی ہیں لیکن یہاں کوئی کرسی نظر نہیں آرہی ہیں کیونکہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، کون کہتا تھا کہ کرسیاں نہیں ملیں گی، کرسی والوں کے خلاف مقدمے بناؤں گا، نہ تمھاری کرسیوں کی ضرورت ہے اور نہ اجازت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی قلفی جما دینے والی سردی میں کئی گھنٹوں سے کھڑے ہو جس کو میں سلام پیش کرتی ہوں، سگے بھائی کی طرح سندھ کو خوش آمدید کرتے ہیں، لاہور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور لاہور کی جانب سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پنجاب سگے بھائی کا کردار ادا کرے گا، یہاں سب برابر ہیں کوئی بڑا بھائی نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جس طرح لاہور میں کئی جگہ میرا استقبال کیا اور ساری زندگی بھی اس کا جواب دوں تو اس کا جواب نہیں ہوگا، جتنی ہماری بہنیں یہاں جلسے میں شریک ہیں ان کی حفاظت کے لیے اپنے بھائیوں سے درخواست ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں آج مینار پاکستان میں نہ صرف تاریخی جلسہ کیا، تین سال کون فرعون کے لہجے میں کہتا تھا کہ این آر او نہیں دوں گا لیکن اب خود این آر او مانگ رہا ہے لیکن نواز شریف اس کو این آر او نہیں دے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ 2011 میں آپ نے مینار پاکستان میں جلسہ کیا تھا، عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ جلسہ کس نے کروایا تھا، وہ جلسہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل شجاع پاشا نہیں کروایا تھا، پھر 2013 کے انتخابات میں عبرت ناک شکست ہوئی تو تمھہیں سمجھ آگیا کہ عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم بنوں گا نہیں تو تابعداری کرنے سے وزیراعظم بنوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر کسی نے کہا کہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچاؤ اور نواز شریف نے ان دھرنوں کے باوجود جو تم نے جنرل پاشا اور جنرل ظہیرالاسلام کی مدد سے کئے تھے، لوڈ شیڈنگ ختم کی اور عوام کی خدمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پھر تمہیں نئی بات سوجھی اور کرپشن کا راگ الاپنا شروع کیا اور جسٹس کھوسہ نے تم کو کہا کہ میرے پاس درخواست لاؤ میں تمھاری مدد کرتا ہوں اور فکس میچ کے ذریعے تم نے نواز شریف کو اقامہ پر باہر نکلوایا۔

مریم نواز نے اس موقع پر عمران خان کی مختلف تقاریر اور پروگراموں کی ویڈیو کلپس چلائیں، جس میں وہ نواز شریف کی تعریف کر رہے تھے کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے زمین فراہم کی اور جمہوریت کے لیے اپوزیشن کو متحد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو دھاندلی اور فکس میچ کے ذریعے حکومت مل گئی لیکن اس کے سلیکٹرز نہیں جانتے تھے کہ اتنا نالائق اور اتنانااہل نکلے گا اور آج کی نالائقی کا جواب اس کے سلیکٹرز کو دینا پڑ رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر عوام سے وعدے کیے تھے اور ایک مرتبہ پھر عمران خان کی تقاریف کی ویڈیو چلائی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کہتا تھا کہ جب حکمران چوری کرتا ہے اس کی قیمت عوام مہنگائی سے ادا کرتے ہیں پھر چور کون ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مینار پاکستان میں کھڑے ہو کر اس نےجھوٹے وعدوں کا پلندہ لے کر آیا تھا اور آج نوجوانوں اور طالب علموں سے ان کے اسکالرشپس واپس لے لیے ہیں اور طالب علم آج بھی سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں پر خرچ کرنے کا وعدہ کرتا تھا لیکن آج ینگ ڈاکٹر، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، سرکاری ملازمین اور عوام سڑکوں پر ہیں اور صحت کا وعدہ کرکے گیا تھا اور کہا تھا کہ ہسپتال بناؤں گا، خیبرپختونخوا میں کورونا کے 7 مریض اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کیونکہ انہیں وقت پر آکسیجن کےسلینڈر نہیں ملے۔

عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہتا تھا کہ بھیک نہیں مانگوں گا، قرضے نہیں لوں گا پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ اس تابعدار خان نے قرضوں کے نئے ریکارڈ لگا دیے اور ہمارے ملک پاکستان کو اس نے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ کہتا تھا کہ ایسا نظام لے کر آؤں گا کہ بڑے لوگوں کو قانون کے نیچے لے کر آؤں گا تو بٹ کڑاہی کو قانون کے نیچے لے کر آئے لیکن کیا تمھارے اندر اتنی ہمت ہے کہ جنرل عاصم سلیم پر کرپشن کا مقدمہ بناؤ اور کرپشن کی داستانیں دنیا سن رہی ہے، مالم جبہ، ریپڈ بس جلتی زیادہ چلتی کم ہے، بلین ٹری سونامی، آٹا، چینی، ایل این جی مہنگی گیس کا اسکینڈل ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جب اس کے پاس نواز شریف کی باتوں کا جواب نہیں ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ نواز شریف غدار ہے اورمودی کا یار ہے لیکن کیا نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے، کیا اداروں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دے کر نواز شریف غداری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا مطالبہ غیر آئینی ہے، کیا آئین توڑنے والے مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنانا اور مطالبہ کرنا، کیا عوام کا مینڈیٹ چرانے والے کو چور کہنا غیرآئینی ہے، کیا الیکشن والے دن آر ٹی آیس نواز شریف نے روکا تھا، کیا فارن فنڈنگ نواز شریف کو ہوئی تھی، کیاکشمیر کو مودی کے حوالے سے نواز شریف نے کیا تھا کہ کیا جسٹس شوکت عزیز سے مرضی کافیصلہ لینے کے لیے دباؤ نواز شریف نے ڈالا تھا، کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر جھوٹا ریفرنس نواز شریف نے بنوایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں