گوادرمیں باڑلگانا ڈیموگرافک حملہ ہے، خالد بلوچ
کوئٹہ،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی وائس چیئرمین خالد بلوچ نے گوادر شہر کو باڑلگانے کو بلوچستان پر جیوگرفیکل اور ڈیموگرافک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ظلم و جبر استحصال و منفی حربوں سے حکومت نوآبادیاتی منصوبوں کو پائے تکمیل تک نہیں پہنچا سکی اب گوادر کو باڑلگا کر مکمل طور پر بلوچستان سے کاٹنے کی کوشش ہورہی ہے پہلے جزائر کو وفاقی تحویل میں دینے سے اسکی شروعات کی گئی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ مکران کو جنوبی بلوچستان قرار دے کر تقسیم کے سازشوں کو میڈیا میں لایا گیا اب ان سازشوں کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنائی جارہی ہے پہلے بھی بلوچستان پیکج کے نام پر بلوچ قوم کو مسخ شدہ لاشوں و دیگر مظالم کا نشانہ بنایا گیا یہ بھی ان ہی سازشوں کی کڑی ہے انہوں نے مزید کہا ہے ایک مکمل شہر کو باڑ لگا کر ترقی کا نام دیا جارہا یے اگر شہروں کو باڑلگانے سے ترقی آسکتی ہے تو لاہور و پنجاب کو میٹرو بس دینے سے ہر ضلع میں الگ الگ باڑلگا کر ترقی دیا جاسکتا تھا تو پھر سی پیک کے تمام فنڈز کو لاہور میں لگا کر گوادر کو ترقی کا مرکز قراردی گئی سی پیک سے گوادر کو پینے کی پانی تک فراہم نہیں کی جاسکی لیکن نام نہاد ترقی سے اب گوادر کو مکمل جیل میں تبدیل کیا جارہا ہے جوکہ آئین پاکستان و دنیا کے تمام انسانی حقوق کے قوانین کے خلاف ہے ایسے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا سلسلہ بلوچستان میں گذشتہ کئی عرصے سے جاری یے اب اسکو مزید تیز کردی گئی یے طلباء تنظیموں کے خلاف باقائدہ کریک ڈاون کے لئے تیاریاں کی جارہی یے بی ایس او کے نوجوانوں کو جانوں کے خطرات لائق ہے لیکن انسانی حقوق پر کام کرنے والے نام نہاد ادارے مکمل خاموش ہیجوکہ شدید انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے


