تین ہزار روپے ماہانہ پیکج ناکافی ہے، مولانا عبدالحق ہاشمی

کوئٹہ،جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی عوام کیساتھ ملکر استغفار،احتیاط اور امید کے ساتھ کورونا وائرس کو شکست دیں گے۔ حکمران خود بھی توبہ و استغفار کریں اور قوم سے بھی اپیل کریں۔حکومت کا رویہ عوام کے ساتھ اس ماں کا ہونا چاہئے جو بچے کو بیماری سے بچانے کیلئے سب کچھ قربان کردیتی ہے۔حکومت نے اب بھی عوام کو ریلیف نہ دیا تو اس سے بڑھ کرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔بلوچستان کے عوام کے بجلی اور گیس بل معاف،دیہاڑی وکم آمدنی والے خاندانوں کو ایک ماہ کا راشن دیا جائے۔ماہانہ تین ہزارروپے ناکافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومتیں مصیبت کے موقع پر پریشان حال عوام پرخرچ کرتی مگر ہمارے ہاں اس موقع پر بھی بدعنوانی وبچت کے تحت گزارنے کاپروگرام ہے۔جماعت اسلامی احتیاط، رجوع الی اللہ وعوامی سہولیات کی فراہمی،امدادی کاموں میں عوام وحکومت کیساتھ ہے حکمرانوں نے تکبر، غروروکرپشن کے نشے میں اللہ سے بغاوت کا رویہ اختیارکرکیا ہے جس کی وجہ سے آج پوری انسانیت مشکل وپریشانی میں ہے ہمیں ہر وقت اللہ کے فرمانبرداربندہ اور غلام بن کر رہنا اور اسی کی فرما نبرداری والی سادہ زندگی گزارنا چاہئے تاکہ آفات سے بچ سکیں۔ حکومت کو اس موقع پر احتیاط صفائی ورجوع اللہ کیساتھ عام لوگوں میں سینی ٹائزر،ماسک اور صابن بھی تقسیم کرنا چاہیے مگر موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح دنیا سے امدادی سامان ورقوم جمع کرتی ہے۔ جماعت اسلامی مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ملک بھر میں ہمارے لاکھوں کارکنان رضا کارانہ طور پر کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے عوام میں سینی ٹائزر،ماسک اور صابن وغیرہ تقسیم کررہے ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے سینکڑوں ہسپتال،ڈسپنسریاں اورتین سو ایمبولینسز عملے سمیت حکومت کو پیش کردیئے ہیں،ہم مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مکمل تعاون کررہے ہیں،یہ اجتماعی مسئلہ ہے اورپوری قوم کو مل کر کورونا کے خلاف لڑنا ہے۔لوگ اللہ کی رضا کیلئے اپنے ارد گرد موجود غرباء و مساکین اور پریشان حال لوگوں سے تعاون اور ان کی مدد کریں تاکہ کرونا کے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔جماعت اسلامی کی رجوع الی اللہ اور کورونا آگاہی و صفائی مہم جاری ہے اور جب تک اس وبا سے نجات حاصل نہیں کرلیتے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کے ساتھ اس مہم کو جاری رکھیں گے#

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply