سعودی عرب کے قرضوں کی واپسی
2018میں پاکستان کی شدید مالی مشکلات سے نکلنے کے لئے سعودی عرب کی جانب سے3ارب ڈالر قرض اور ایک ارب ڈالرکا پیٹرول سالانہ ادھار دینا شروع کر دیا تھا۔ابھی یہ مدت ختم نہیں ہوئی تھی کہ پاکستان، ترکی اور ملائیشیانے دنیا کو اسلامو فوبیا(بالخصوص محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت) رکوانے کے لئے بین الاقوامی معیار کا چینل قائم کرنے سمیت ایک مسلم ملکوں کی تنظیم بنانے کا اعلان کیا اور اس سلسلے کا پہلا اجلاس ملائیشیا میں منعقد ہوا۔ یہ بات ہمارے اسلامی برادر ملک کے حکمرانوں کو سخت ناگوار گزری اور انہوں پاکستان کو وارننگ دی کہ اس اجلاس میں شرکت کے بھیانک نتائج ہوں گے۔پاکستان نے اس ہدایت کا احترام کیا، اجلاس میں شرکت کے لئے اپنے کسی نمائندے کو نہیں بھیجا۔لیکن سعودی حکمرانوں نے اس کے باوجود اپنے تین ارب ڈالر واپس مانگ لئے۔پاکستان نے لئے ہوئے قرض کی واپسی میں کوئی بہانے بسازی نہیں کی،ایک ارب ڈلر ان کے مطالبے پر فوراً واپس کردیا،ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط اگلے روز (17دسمبر 2020) اداکر دی ہے جبکہ تیسری اور آخری قسط جنوری 2021میں ادا کردی جائے گی۔سعودی عرب کے رویہ اور عمل سے ثابت ہوا کہ امریکی حکمرنوں کاکہا 100فیصد درست ہے، ملکوں کے درمیان صرف مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم ہوتے ہیں، دوستی،مذہبی بھائی چارہ اور انسانی ہمدردی جیسی بنیادوں پر ملک تعلقات قائم نہیں ہوا کرتے۔اس تکلیف دہ تجربے سے گزرنے کے بعد پاکستان کی مقتدرہ اور سیاست دانوں کو آئندہ کے لئے اس اصول اور زمینی حقیقت کے اپنی پالیسی سازی کے رجسٹرمیں سرفہرست لکھ لینا چاہیئے۔سارا کھیل مفادات کے گرد گھومتا ہے۔مذاکرات کی میز پرجو فریق اس اہم ترین اصول کو بھول کر دوسرے فریق کی چکنی چپڑی باتوں اور زبانی یقین دہانیوں کو سچ سمجھنے کی غلطی کرتا ہے اس کا انجام عراق، لیبیاء، شام،افغانستان اور پاکستان جیسا ہوتا ہے۔پاکستان آج بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے اسباب میں ماضی کی حکومتوں کی غلطیاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان دنیاکا واحد ملک نہیں جواپنے حکمرانوں کی غلطیوں کی قیمت چکا رہا ہے،اس فہرست میں امریکہ جیسا جمہوریت کاعالمی چیمپیئن بھی شامل ہے،آج کل اسی کرب سے دوچار ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری مالی سال(30ستمبر2020تک) امریکی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فیڈرل بجٹ کا خسارہ 3100ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھا۔پچھلے سال امریکی حکومت کی آمدن 3.42ٹریلین ڈالر تھی جب کہ اخراجات 6.55ٹریلین ڈالر رہے۔واضح رہے دوسری جنگ عظیم کے بعدیہ بجٹ خسارہ سب سے زیادہ رہا۔دیگر ممالک کا بھی یہی حال ہے۔اس لئے کہ کورونا نے تقریباً سب ملکوں کی معیشت کا پول کھول دیا ہے۔ مسلم ممالک کی معیشت کو کورونا سے بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔جو بائیڈن کی حکومت دشمنیاں کم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ایران سے کشیدگی کم کرنے کا معاہدہ براک اوبامہ حکومت نے کیا تھا تب جو بائیڈن نائب صدر تھے۔وہ ٹرمپ کی غلطیوں سے جان چھڑانے کی کوشش کریں گے۔ایرانی پیٹرول مارکیٹ میں آتے ہی عرب ممالک کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔جنوبی ایشیا میں بھی ٹرمپ پالیسی کو پذیرائی نہیں مل سکی۔بھارت کو چین کے مقابلے میں بڑی معاشی قوت بنانے کا خواب چین کی پیش قدمی نے معقول حد تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔علاوہ ازیں کورونا کے علاوہ کسان تحریک بھی نریندر مودی کی حکومت کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔اندرونی مسائل میں الجھی حکومت چاہے بھی تو دنیا پر حکمرانی نہیں کر سکتی۔دو عالمی جنگوں کے اختتام کے بعد نئی صورت حال کے پیش نظر نئے معاہدے کترنا پڑے اسی طرح مستقبل قریب میں عالمی برادری کو ایک نئے معاہدے کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ایک سال تو کورونا کی ویکسین میں گزر جائے گا۔ساری دنیا میں 6ارب انسانوں کو مفت ویکسین لگانا صرف جسمانی طور پر ہی مفید ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس کے زیر سایہ سیاسی ماحول میں بھی خوشگوار تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے۔عالمی وباکورونا نے جو تباہی پھیلائی ہے اس کے دورس نتائج برآمد ہونا یقینی امر ہے۔پاکستان کورونا کے نقصانات سے کافی حد تک محفوظ رہا ہے۔اسے قدرت کی کرم نوازی ہی کہہ سکتے ہیں ورنہ عوام نے احتیاطی تدابیر سے جس قدر انحراف کیاہے اس کے نتیجے میں پاکستان کا حشر اٹلی سے بھی بدتر ہونا چاہیئے تھا۔امریکی اعداو شمار ہر روز میڈیا پر دکھائے جاتے ہیں، بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے بھی سبق لینے کو کوئی تیار نہیں۔اس کے باوجود اگر قہر نازل نہیں ہواتو اسے اللہ کے خاص کرم کے علاوہ کوئی دوسرا نام دینا آسان نہیں۔حکمرانوں اور حکمرانی کی خواہش رکھنے والوں کواس رعایت کا فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ عذاب کو کسی نئی شکل میں دعوت دینا دانشمندی نہیں۔سعودی عرب کے 2ارب ڈالر واپس کر دیئے اور 5مہینے ادھار پر پیٹرول لئے بغیر گزارہ کرکرلیا، اسی دوران برطانوی طیارے لینڈنگ کی اجازت نہ دے کر پاکستان نے تمام ملکوں کو پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان کسی ملک کا مزارع نہیں بنے گا،جسے تعلقات قائم کرنے ہوں برابری کی سطح پر ہاتھ بڑھائے۔اس سے ملتا جلتاپیغام اپوزیشن کوبھی مل گیا ہوگا اور اگر نہیں ملا تب بھی اپوزیشن سمجھدار ہے،حکمرانی کا چالیس سالہ تجربہ رکھتی ہے، اور 11سیاسی جماعتوں کے پاس مشاورت کے لئے پی ڈی ایم نامی مشترکہ پلیٹ فارم بھی موجود ہے۔ ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں بھی ہیں۔ویسے بھی جدید ٹیکنالوجی نے سارے کام آسان کر دیئے ہیں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ سمیت ہرعالمی فورم پر اجلاس منعقد ہونے لگے ہیں۔زمینی حقائق سے فرار کے راستے تیزی سے مسدود ہونے لگے ہیں۔عام آدمی کی دیرینہ خواہش ہے کہ اس کے بچوں کو دو وقت پیٹ بھر کے کھانا عزت سے ملے،بیمار ہوں تو علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہو، سادہ سی خواہش ہے پوری کی جاسکتی ہے، حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ عوام کو بیوقوف بنانا ہر لمحے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔مشکلات نے عوام کو بھی اتنا شعور ضروردیا ہے کہ آسانی سے جھانسے میں نہ آئیں۔


