جمعیت میں اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں، مولانا واسع

کوئٹہ:جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور جمعیت علما اسلام سلیکٹڈ حکمرانوں کے خاتمے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے مردان میں عوام نے ثابت کردیا کہ وہ اب سلیکٹڈ حکمرانوں کو کسی بھی صورت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جمعیت علما اسلام ایک حقیقت ہے اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہے بلوچستان کے عوام نے بہت بڑی قربانیاں دی ہے اور صوبے میں ایک اسی حکومت کو مسلط کیاگیا جن کا کوئی وجود نہیں ہے اور صوبے کے قومی معاملات پر خاموشی اختیار کرنا سلیکٹڈ حکمرانوں کی نشاندہی ہے وفاق نے بلوچستان کے تمام وسائل پر قبضہ کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود سلیکٹڈ حکمران خاموش ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاس میں رکن قومی اسمبلی آغا محمود شاہ، مولوی کمال الدین، مولوی عصمت اللہ سمیت دیگر عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ راتوں رات باڑ لگا کر ساحل گوادر کو بلوچستان سے جدا کرنے کی منصوبے پر کام شروع کیاگیا ہے جو کہ اٹھارویں ترمیم کی کھلا کھلم خلاف ورزی ہے جمعیت علما اسلام این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے معاملے پر کسی بھی صورت خاموش نہیں رہے گی اور نہ ہی وفاق اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے وسائل کو قبضے میں لے کر مفادات حاصل کریں 2010میں جمعیت علما اسلام اور اس وقت کی حکومت نے بڑی محنت اور جدوجہد کے بعد این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے حقوق حاصل کیے لیکن اب ایک سلیکٹڈ حکمران غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے بلوچستان کے حقوق کو سودا کررہے ہیں بدقسمتی سے بلوچستان میں جس کی بھی حکومت ہے ان کے پاس اختیارات نہیں ہے ان کو صرف وزارت اعلی دیکر ان سے اختیارات چھین لیے گئے ہیں جمعیت علما اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ان معاملات پر خاموش نہیں رہیں گے جمعیت علما اسلام ایک حقیقت بن چکی ہے حکمران اپنے مفادات کی خاطر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جمعیت علما اسلام میں کوئی اختلافات نہیں ہے اور حکمرانوں کے لئے جمعیت علما اسلام آخری کیل ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں