رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالی خسارہ میں 33.5 فیصد کا اضافہ

اسلام آباد :وزارت خزانہ نے دسمبر کی ماہانہ معاشی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالی خسارہ میں 33.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔رپورٹ میں رواں مالی سال جولائی دسمبر عرصہ میں معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالی خسارہ میں 33.5 فیصد کا اضافہ ہوا،رواں مالی سال جولائی اکتوبر عرصہ میں مالی خسارہ 753 ارب روپے پر پہنچ گیا،گزشتہ مالی سال اس عرصہ میں مالیاتی خسارہ 564 ارب روپے تھا،رواں مالی سال جولائی نومبر عرصہ میں برآمدات 7.1 فیصد کم ہوئی، پہلے پانچ ماہ کے دوران 9.6 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران برآمدات 10.3 ارب ڈالر کی تھیں،رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 6.9 فیصد بڑھ گیا، تجارتی خسارہ 8.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی رواں مالی سال جولائی نومبر کے دوران 71.7 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی،گزشتہ مالی سال جولائی نومبر میں 86.4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی، نان ٹیکس آمدن جولائی سے نومبر 5.5 فیصد گر گئی۔ وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آٹوموبائل، سمینٹ، کھاد، موٹر سائیکل کی صنعت میں بہتری آرہی ہے، صنعتوں کا پہیہ چلنے سے سیالکوٹ،فیصل آباد اوردوسری جگہوں پرلیبرکی کمی کا سامنا ہے،ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کے دوران حکومت نے معیشت کے حوالے سے اہم فیصلے کیے، ایک کروڑ50لاکھ افراد جبکہ خاص طورپرخواتین کومالی معاونت فراہم کی گئی، احساس پروگرام کے تحت فی خاندان 12 ہزار روپے دیئے گئے،انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران چھوٹی صنعتوں کے بجلی کے بل حکومت نے ادا کیے، بڑی صنعتوں کے قرضوں کی واپسی کوایک سال کے لیے موخرکیا گیا، بڑی صنعتوں کے ملازمین کے لیے پے رول سکیم دی گئی تاکہ وہ بے روزگارنہ ہوں، برآمدی شعبے کو250ارب روپے کے ریفینڈزادا کیے گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں