حوثی ملیشیا کی منظوری سے ایک شخص نے اپنی بچی 350 ڈالر میں بیچ ڈالی

صنعاء:یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے انسانیت کے خلاف جرائم کی طویل فہرست میں ایک نیا اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں کی باقاعدہ سرکاری منظوری کے تحت ہونے والے اس جرم نے یمنی عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمن کی اب گورنری میں ایک شخص نے اپنی 8 سالہ بچی لیمن کو ایک دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کردیا۔ بچی کو بیچنے کے اس گھناؤنی جرم میں حوثی ملیشیا کے سرکاری عہدیدار بھی ملوث ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر بچی کو فروخت کرنے کا معاہدہ کرایا

اپنا تبصرہ بھیجیں