جنازہ اٹھانے والاکوئی مرد نہیں بچا

مچھ سانحہ میں 11کانکن شناخت کرکے بے رحمی سے قتل کر دیئے گئے۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔مقتولین کا مذہبی مسلک قاتلوں کے مذہبی مسلک سے مختلف ہے۔ قاتلوں نے داعش نامی تنظیم کے طور پر اپنا تعارف کرایا ہے۔قاتل بھی مسلم ہونے کیدعویدار ہیں،اور مقتولین بھی خود کو مسلم سمجھتے ہیں۔یہ لڑائی کسی لحاظ سے بھی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ قاتلوں نے اللہ کی نازل کردہ کتاب قرآن کی آیات نہیں پڑھیں،قرآن پڑھا ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اپنا سماجی قانون بیا ن کیا ہے:۔
”ایک بیگناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“،‘(حوالہ: سورۃ المائدہ آیت32) اگر قاتل ’عراق اور شام میں دولت اسلامیہ‘ (داعش)قائم کرنا چاہتے ہیں تب بھی انہیں عراق اور شام میں جانا چاہیئے،اس لئے کہ دولت اسلامیہ عراق اور شام میں قائم کرنا ان کا نعرہ اور مقصد ہے۔ پاکستان کی سرزمین عراق اور شام سے ہزاروں میل دور واقع ہے۔پاکستان کے عوام کی زبان عراق اور شام سے مختلف ہے۔عراق اور شام کی سرحدیں پاکستان سے نہیں ملتیں،ہزارہ برادری بھی عربی زبان نہیں بولتی۔نہ ہی عراق اور شام سے ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہوئی ہے۔داعشکا اگر کوئی مقصد ہے تو اس کو اپنی کارروائی کا دائرہ عراق اور شام تک محدود رکھنا چاہیئے۔ہزارہ برادری عراق اور شام میں اگر داعش کے خلاف جنگ کر رہے ہوں تو انہیں قاتلانہ کارروائیوں کی بنیاد بنانے کا ایک جوازمل جاتا۔صرف اثناء عشری (یا شیعہ) ہونا ان کا اتنا بڑا جرم ہر گز نہیں کہ انہیں نہتا دیکھ کر جب چاہیں، جہاں چاہیں منصوبہ بندی کریں اور اسلحے کے زور پر انہیں اغواکرکے قریبی پہاڑی پر لے جائیں اور گلے کاٹ کر قتل کر دیں۔ماضی میں اس سے زیادہ بھیانک وارداتیں کی گئیں، ایک ایک واردات میں 100تک بیگناہ شہری قتل کئے جاتے تھے،سب ہزارہ برادری کے افراد تھے۔اس وقت قاتلوں کے قدموں کے نشان پنجاب تک پائے گئے تھے۔عراق اور شام سے اس وقت بھی قاتلوں کا کوئی تعلق نہیں تھا۔بین الاقوامی ذرائع سے ثابت ہو چکا ہے کہ داعش نامی تنظیم کی تربیت اور فنڈنگ امریکہ اور اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے کی ہے۔عراق کے صدر صدام حسین نے 8سال تک ایران سے امریکہ کے کہنے پر جنگ کی،اور 8سال بعدایران سے شکست کھائی، کویت کے تیل کے کنووں کو پہلے لوٹا پھر آگ لگا دی،انجام یہ ہوا کہ جس امریکہ کے لئے ساری زندگی کام کیا اسی امریکہ کے ہاتھوں مارے گئے۔ امریکہ 20سال سے افغانستان میں بمباری کر رہا ہے، تاحال افغانیوں کو محکوم نہیں بناسکا۔طالبان اس لئے فتحیاب ہوئے کہ ان کا اپنا ملک ہے،اپنی زمین ہے، اپنے لوگ ہیں،، امریکہ قتل و غارت گری کے ذریعے قبضہ کرنا چاہتا تھا،نہیں کر سکا۔داعش کے نام پر اپنی شناخت کرانے والوں کا عراق اور شام کی زمین سے کوئی رشتہ نہیں۔عراقیوں اور شامیوں کے لئے وہ اجنبی ہیں۔اسی طرح بلوچستان میں وہ اجنبی ہیں۔بلوچستان کی زمین اور بلوچوں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں۔جو فنڈ اور تربیت دے رہا ہے،کل اس کے کام کے نہیں رہیں گے توصدام حسین کی طرح خود ہی مار دے گا۔ دولت اسلامیہ عراق و شام کا نعرہ لگانے والوں کو اسلام کی الف بے بھی نہیں معلوم،صرف نہتے انسانوں کا گلا کاٹنا جانتے ہیں۔ توقع ہے کہ ان قاتلوں کی پناہ گاہیں پنجاب میں ہی ملیں گی۔ حکمرانوں کا آئینی فرض ہے کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ہزارہ برادری کے احتجاج کرنے والے سوگواروں سے ملاقات کرکے قاتلوں کی جلد گرفتاری کا یقین دلایا ہے۔25لاکھ روپے ہر مقتول کے لواحقین کو دینے کااعلان بھی کیا ہے۔لیکن یہ قتل کا قصاص نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں اللہ نے بیگناہ انسان کے قتل کی صورت میں جان کے بدلے جان کی سزا مقرر کی ہے۔سورۃ البقرۃ آیت178،179اور سورۃ المائدہ آیت45میں پوری تفصیل کے ساتھ فرمایا ہے کہ قصاص میں حیات ہے، قصاص نہیں لوگے تو حیات سے محروم ہوجاؤگے، تقویٰ بھی اختیار نہیں کر سکو گے۔پاکستان میں امن کی بحالی کاعمل اس وقت شروع ہوا جب پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے طالبان نے معصوم بچوں اور اساتذہ کو اندھا دھند گولیاں برسا کر قتل کیاتھا۔سب نے دیکھا کہ قصاص کے قرآنی حکم پر جیسے ہی عمل کیا جانے لگا، زندگی محفوظ ہوتی چلی گئی۔ قرآن کی نظر میں ہزارہ برادری کے بیگناہوں کو قتل کرنے والے پوری انسانیت کے قاتل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی بعض واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ حکومت قاتلوں سے قصاص لے تاکہ عام آدمی کی زندگی محفوظ ہو سکے۔امریکہ اپنے ایک شہری ڈینئل پرل کے قاتلوں کی 14،15 سال بعد جیل سے رہائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہا ہے کہ قاتل اس کے حوالے کئے جائیں۔پاکستان کے آئین میں لکھا ہے ریاست کا مذہب اسلام ہوگا۔اور اسلام کہتا ہے: ایک بیگناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ آئینی اور مذہبی فرض ادا کیا جائے۔ قاتلوں سے قصاص لینے کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔مقتولین میں شامل اکلوتے بھائی سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کاذکر کرتے ہوئے بہن معصومہ یعقوب نے درد بھرے لہجے میں ایک بھیانک حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ قاتلوں نے ان کے خاندان کا ایک مرد بھی زندہ نہیں چھوڑا اس لئے 6بہنیں مل کر اپنے بھائی کا جنازہ اٹھائیں گے۔ حکومت قاتلوں کو کیفر کردارتک پہنچانے میں تاخیر نہ کرے۔قتل و غارت گری کا سلسلہ رکنا چاہیے۔ ہزارہ برادری انصاف مانگ رہی ہے۔ انہیں انصاف ملنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں