بجلی کا شٹ ڈاؤن‘ ملک تاریکی میں ڈوب گیا

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اچانک پورا ملک اندھیروں میں ڈوب گیا۔وزارت بجلی کے انچارج وزیر عمر ایوب کا کہناہے کہ جام شورو گرڈ اسٹیشن کے افسران اور اہلکاروں کی غفلت اور لاپروائی کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ذمہ داروں بشمول ایڈیشنل پلانٹ منیجر، انجنیئرز، اور دیگر اہلکار فوری طور پر معطل کرکے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ابتدائی طور پر درستگی میں تاخیر کا سبب ملک بھرمیں چھائی دھند بتائی گئی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا دنیا میں ہوتارہتا ہے۔واضح رہے کہ بجلی کی مکمل بحالی میں 18گھنٹے لگے۔ انکوائری رپورٹ کا انتظار کر نا مناسب ہوگا،حقائق دیکھے بغیر صرف غم و غصے کا اظہار کیا جا سکتا ہے،مسئلے کے تمام پہلوؤں پر بات نہیں ہوسکتی۔ دو چار دن میں رپورٹ آنے کی توقع ہے۔ضرورت ہے معاملہ باریک بینی سے دیکھاجائے،اچانک بجلی کی بندش سے صارفین کو صرف جسمانی یا ذہنی کوفت ہی نہیں ہوتی بلکہ بجلی سے چلنے والی مشینین، فریج، پنکھے اور کمپیوٹربھی متأثر ہوتے ہیں۔اب بجلی صرف بلب جلانے یاہیٹر اور پنکھے چلانے تک محدود نہیں رہی۔ اسپتالوں میں مریض پریشان ہو جاتے ہیں۔ تمام معمولات زندگی بجلی کی مدد سے چلتے ہیں۔اخبارات کی چھپائی انہی اوقات میں ہوتی ہے۔ یاد رہے آج ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہبجلی کی ترسیل میں اس قسم کی بڑی خرابی سے بچا جا سکتا ہے۔کئی حساس نوعیت کے حفاظتی سوئچ اور آلات زیر استعمال ہیں کہ خرابی کوپھیلنے سے روکا جا سکتا ہے بشرطیکہ عملہ کام چوری نہ کرے۔ڈیوٹی پر صرف حاضر ہوناکافی نہیں، اپنے فرائض بھی ادا کرے۔ہمارے ملک میں فرض شناسی کافقدان ہے۔میرٹ پر بھرتیاں نہ ہونا اور اقرباء پروری کی شکایت عام ہے۔حساس مشینری اگر نااہل افسران اور غیر ذمہ دار افراد کے حوالے کر دی جائے تو حادثات یقینی ہوجاتے ہیں،یہ صورت حال اصلاح کی متقاضی ہے اور تحقیقاتی رپورٹ آنے پر اصلاحی اقدامات کئے جائیں۔البتہ اسی دوران میڈیا نے یہ اچھی خبر دی ہے کہ ایسی 8آئی پی پیز،بجلی پیداکرنے والی کمپنیوں، کو جو شوگرملوں سے حاصل ہونے والے گنے کے پھوک سے بجلی پیدا کرتی ہیں طویل مذاکرات کے بعدحکومت نے ٹیرف میں کمی کے لئے راضی کر لیا ہے اور کابینہ کی منظوری سے ایک دو روز میں فریقین باضابطہ دستخط کردیں گے۔معاشی ماہرین اسے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ماہرین کاکہنا ہے کہ اس سے حکومت کو 850 ارب روپے سالانہ جیسی معقول رقم بھی حاصل ہوگی اور عام آدمی کو سستی بجلی فراہم کرنے کا راستہ بھی کھل جائے گا۔ علاوہ ازیں بھاری گردشی قرضوں سے نجات ملے گی۔ حکومت تو روز اول سے ہی اس سلسلے میں آئی پی پیز سے مذاکرات کر رہی تھی۔حکومت کا مؤقف تھا کہ سابق حکومتوں نے آئی پی پیز سے معاہدے کرتے وقت جلد بازی سے کام لیا یاعوامی مفادات کے حوالے سے ان سے چو ک ہو گئی تھی اورکمپنیوں کے ساتھ پلانٹ کی مجموعی پیداوار کی ادائیگی کا معاہدہ کر لیا، اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ حکومت خواہ یہ بجلی استعمال کرے یا نہ کرے بل دینا ہے۔یہی گردشی قرضے کا بڑا حصہ ہے۔بجلی پیداکرنے والی کمپنیاں اس مفت کی کمائی سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھیں۔ حکومت یہ الزام بھی عاید کرتی رہی ہے کہ ایسے معاہدے دانستہ کئے گئے تاکہ دستخط کنندگان کو مستقل طور پر کک بیک کی صورت میں بہت کچھ دیر تک ملتا رہے۔اور ایسا ہونا ناممکنات میں نہیں۔بعض وزراء کے اقاموں سے کرپشن کی بو آرہی ہے،ایک سابق وزیردفاع کے بارے میں افسوسناک شواہد سامنے آئے ہیں،انہوں نے بیرون ملک ایک ایسی ملازمت کااقامہ لے رکھا تھاجس سے تنخواہ کی ادائیگی انتہائی پر اسرار ہونے کے علاوہ میڈیا اطلاعات کے مطابق اربوں روپے میں کی گئی ہے۔آج کے جدید دور میں تنخواہ کی ادائیگی/ وصولی بھی نقد کئے جانے کاانکشاف حیران کن ہے، کوئی ایک ادائیگی بذریعہ چیک نہیں ہوئی،ملازمت پر تقرری کا کوئی اپائنٹمنٹ لیٹر نہیں دکھا سکے۔ایسے حالات میں بجلی پیداکرنے والی کمپنیوں سے کئے جانے والے معاہدوں کی شفافیت کھلی آنکھوں تسلیم کرنا آسان نہیں۔یہ حالات اپوزیشن کے علم میں ہیں،اپوزیشن کوبڑی اور بنیادی شکایت ہے کہ احتساب یکطرفہ کیا جارہا ہے، نیب کا رویہ جانب دارانہ دکھائی دیتا ہے۔اس شکایت میں وزن ہے،عام آدمی دیکھ رہاہے کہ مالم جبہ، بی آر ٹی اور بعض دیگر اسکینڈلز سرد خانے میں پڑے ہوئے ہیں۔چیئر مین نیب کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے:
۔۔۔۔”اگر وزراء کے خلاف کارروائی ہوتوحکومت قائم نہیں رہے گی“۔۔۔۔۔
بلین ٹری کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، آڈٹ رپورٹ طلب کی ہے، تفصیلات عوام کے سامنے آجائیں گی۔ لیکن ترسیلات زر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہونے والا مسلسل اضافہ حکومت کی کامیابی ہے،اس کے ساتھ ہی چند روز قبل یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانیہ کو برآمدات ایک ارب ڈالر سے متجاوز رہیں۔ اپوزیشن کو حکومتی خامیوں پر جی بھر کے تنقید کی مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ اس آزادی کو بھرپور انداز میں استعمال بھی کر رہی ہے مگر کبھی کبھار حکومت کی بہتر کارکردگی دیکھنے کو ملے، جیسے مذکورہ بالا دونوں کامیابیاں نظر آتی ہیں، ان کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔اچھے کام پرزوردارنہ سہی، ہلکی سی تھپکی حکومت کا حق بنتی ہے۔البتہ مہنگائی پر قابو نہ پانا حکومت کی بہت بڑی نالائقی ہے، اشیائے خوردنی کے دام سن کرعام آدمی کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، بجلی، گیس،پیٹرول کی قیمیتوں میں مسلسل اضافہ اور تنخواہوں میں سرے سے کوئی اضافہ نہ کیاجانا ملازمت پیشہ شہریوں کی پیٹھ پر 100 درے برسانے سے کم نہیں۔حکومت کواس بارے اگر ماہرین سے مزید مشاورت کی ضرورت ہوتب بھی حکومت کواس بارے میں چاہیئے کہ تاخیر نہ کرے۔جبکہ حکومت خودبھی اپنی اس کمزوری سے واقف ہے،وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ہمیشہ یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ حکومت جب بھی گرے گی،مہنگائی پر قابو نہ پانے کی وجہ سے گرے گی۔پی ڈی ایم اسی ناراضگی کوکیش کرانے کے لئے گلی گلی، کوچہ کوچہ گھوم رہی ہے۔ گردشی قرضوں سے نجات کے بعد توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت مہنگائی کم کرنے کے دیگر اسباب دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں