بلوچستان سے کراچی آنے والے لوگوں کے ساتھ پولیس گردی عروج پر ہے،آغا محمود شاہ

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولانا سید آغا محمود شاہ،صوبائی ناظم الحاج میر نظام الدین لہڑی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان سے کراچی آنے والے لوگوں کے ساتھ پولیس گردی عروج پر ہے چیکنگ کے بہانے لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کرنا معمول بن گیا لوگوں سے لوٹ مار کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ انہیں مختلف الزامات کے مقدمات میں پھنسا کرحوالات میں بند کرنے کا عمل جاری ہے۔ عورتوں اور بچوں کی بھی عزت نہیں کی جاتی ضلع چاغی کی معروف مذہبی اور قبائلی شخصیت حاجی مولانا علی محمد، اپنے بھائی اور بہو کے ساتھ کراچی سے کوئٹہ کے لیے سفر کر رہے تھے کہ راستے میں سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کی پولیس نے انہیں روکا اور ذدوکوب کیا اور ان کے سامان کی تلاشی لی اور کچھ بھی نہ ملا ان دوران بہت ساری عوام وہاں کھڑی تھی اور عوام پولیس والوں سے یہ کہہ رہے تھے کیوں ناحق ان کو تنگ کر رہے ہو۔ پولیس نے کسی کی بھی نہیں مانی اور پھر پولیس والوں نے اپنے گاڑیوں کے ساتھ انکو لے گئے تھانہ اور دو تین گھنٹوں بعد حاجی مولانا علی محمد کے گاڑی کو مختلف قسم کے منشیات سے بھر کے لے آئے اور ان تینوں کی تصویری لینے لگے۔ اور جعلی ایف آئی آر درج کی گئی۔جب کہ اہل علاقہ گواہ ہیں کہ موصوف ایک شریف النفس اور مذہبی رحجان کے حامل شخص ہیں۔ان کیخلاف تمام من گھڑت الزامات اور ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہیں اور جن افراد نے مولوی صاحب کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا ہے مزید انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے پولیس گردی کا یہ سلسلہ راستوں یا سڑکوں پر مسافروں سے پیسے بٹورنے جیسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ان مسافروں کی سب سے زیادہ تعداد مریضوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کراچی علاج معالجہ کے لئے آتے ہیں۔ مذکورہ علاقوں میں قائم پولیس چوکیاں اور پیٹرولینگ ٹیمز مسافروں کے لئے وبال جان بن گئیں ہیں۔ سماجی حلقوں کے مطابق مریضوں کو بھی چوکیوں میں لا کر حراساں کرکے ان سے بھاری رشوتیں طلب کی جاتی ہیں۔جبکہ رشوت دینے سے انکار کرنے پر ان پر جھوٹے مقدمات درج کرکے حوالات میں بند کردیا جاتا ہے۔ یہ پولیس چوکیاں ٹارچر سیلز بن چکے ہیں۔ اگر تھانوں کی حدود میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے نظر ڈالی جائے تو ان تھانوں کی حدود میں اسٹریٹ کرائم کا تناسب کراچی شہر کے دیگر تھانوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن پولیس اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کو پکڑنے کے بجائے پولیس اہلکارتلاشی کے لیئے بلوچستان سے آئے ہوئے لوگوں کو تنگ کرکے ان سے لوٹ مار میں مصروف ہے۔ مسافروں کے مطابق سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام لوٹ مار میں ملوث پولیس اہلکاروں اور افسران کی کھل کر پشت پناہی کرتے ہیں اس کے خلاف قومی اسمبلی سمیت ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں