سندھ ہائیکورٹ کاشہری کی گمشدگی کامقدمہ درج نہ کرنے پر برہمی کا اظہار

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی عدالت نے شہری کی گمشدگی کامقدمہ درج نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پرگارڈن مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا مزید سماعت 22فروری تک ملتوی کردی،بدھ کوسندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی دوران لاپتہ شہری کی والدہ آہ بکا ہو گئی۔جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ریماکس دیئے کہ کسی کابیٹاغائب ہے اورتم ایف آئی آرتک درج نہیں کرتے کیایہ وہی ایس ایچ اوہے جس نے مقدمہ درج کرنے سے انکارکیا؟ لاپتہ شہری کی والد ہ نے کہا کہ یہ وہ ایس ایچ اونہیں عدالت نے پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریماکس دیئے کہ یہ وہی ایس ایچ اوہوتاتویہیں سے سینٹرل جیل بھیج دیتے تم لوگوں کوشرم نہیں آتی ایف آئی آردرج کریں ورنہ ایس پی کوجیل بھیجیں گے دوسری سماعت کے دوران عدالتی حکم پر سربراہ جے آئی ٹی عدالت میں پیش ہوئے۔سربراہ جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی گئی۔رپورٹ کے مطابق مختلف اداروں کو خطوط لکھے گئے ہیں لاپتا شہری عادل کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں خیبر پختونخواہ کے حراستی مراکز سے تاحال جواب موصول نہیں ہواجسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ریماکس دیئے کہ شہریوں کی گمشدگی کا معاملہ انتہائی اہم اور حساس ہے خیبرپختونخوا کے حراستی مراکز سے رپورٹس موصول نہ ہوئی تو سیکرٹریز پیش ہوں لاپتا افراد کی بازیابی کو ترجیح بنیادوں پر دیکھا جائے عدالت نے مزید سماعت 22فروری تک ملتوی کر دی
Final-27-10

اپنا تبصرہ بھیجیں