ہانگ کانگ کے لاکھوں شہریوں کے برٹش پاسپورٹ تسلیم نہیں ہوں گے، چین
چینی حکومت ہانگ کانگ کے لاکھوں شہریوں کو جاری کردہ برطانوی پاسپورٹ تسلیم نہیں کرے گی۔ یہ بات چینی وزارت خارجہ نے آج جمعے کے روز کہی اور اس کی وجہ ایک سکیورٹی قانون سے متعلق لندن اور بیجنگ کے مابین تنازعہ بنا۔
بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ نے آج جمعے کے روز کہا کہ چین ہانگ کانگ کے شہریوں کو برطانیہ کی طرف سے جاری کردہ لاکھوں پاسپورٹ اب قانونی سفری اور شناختی دستاویزات کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور یہ فیصلہ اتوار اکتیس جنوری سے نافذ العمل ہو جائے گا۔
برطانیہ سے عوامی جمہوریہ چین کو ہانگ کانگ کی واپسی یکم جولائی سن انیس سو ستانوے کو عمل میں آئی۔ اس کے بعد سے ہانگ کانگ میں’ایک ملک دو نظام‘ رائج ہے
ساتھ ہی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ہانگ کانگ میں بیجنگ حکوت کی سرپرستی اور منظوری سے جو نیا سکیورٹی قانون نافذ کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے بیجنگ اور لندن کے مابین پیدا شدہ تنازعے میں چین اپنی طرف سے مزید اقدامات کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔
ہانگ کانگ میں، جو ماضی میں ایک برطانوی نوآبادی تھا اور جس کا انتظام 1997ء میں برطانیہ نے چین کے حوالے کر دیا تھا، چار لاکھ سے زائد مقامی شہری ایسے ہیں، جن کے پاس برطانیہ کے جاری کردہ پاسپورٹ ہیں۔
اس پاسپورٹوں کی وجہ سے ان مقامی باشندوں کو برطانیہ کے سمندر پار شہریوں کی حیثیت حاصل ہےاور وہ بغیر کسی بھی رکاوٹ کے برطانیہ کا سفر کر سکتے ہیں۔
ہانگ کانگ میں متعارف کرائے گئے نئے متنازعہ سکیورٹی قانون کی وجہ سے برطانیہ یہ اعلان بھی کر چکا ہے کہ وہ اپنی اس سابقہ نوآبادی کے 5.4 ملین شہریوں کو پانچ سال تک برطانیہ میں رہائش کے اجازت نامے جاری کرے گا، جس کے بعد وہ چاہیں تو انہیں عام برطانوی شہری بننے کا حق بھی حاصل ہو سکے گا۔
برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے 1904ء ہی میں ہانگ کانگ کے جزیرے پر اس طرح کی پہلی ٹرام کے لیے پٹری بچھا دی تھی۔ تب سے یہ دو منزلہ ٹرام اس شہر کی پہچان چلی آ رہی ہے۔ لوگ اسے عام طور پر ’ڈِنگ ڈِنگ‘ کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے پورے شہر کی سیر سیاحوں کے پروگرام میں ضرور شامل ہوتی ہے۔
اس تنازعے میں بیجنگ نے لندن پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے معاملات میں شدید مداخلت اور چین کی خود مختاری پر حملے کا مرتکب ہو رہا ہے۔
ہانگ کانگ تنازعہ: ’امریکا چینی حکام پر نئی پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے‘
بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ لندن نے اب جو اعلان کیا ہے، وہ ہانگ کانگ کے شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو ‘دوسرے درجے کے برطانوی شہری‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔
برطانیہ کا چین پر الزام یہ ہے کہ اس نے ہانگ کانگ میں جو نیا سکیورٹی قانون نافذکیا ہے، اس کے ذریعے بیجنگ دراصل اس سابقہ برطانوی نوآبادی اور اپنے اس خصوصی انتظامی علاقے میں سیاسی اپوزیشن کا گلا دبا دینا چاہتا ہے۔
ہانگ کانگ: جمہوریت کی حمایت میں پوری اپوزیشن مستعفی
لندن حکومت یہ اعلان بھی کر چکی ہے کہ وہ بھی اتوار اکتیس جنوری سے ہانگ کانگ کے شہریوں کی طرف سے برطانیہ میں پانچ سالہ مدت کے رہائشی اجازت ناموں کے لیے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دے گی۔
ہانگ کانگ میں کئی ایسے اپارٹمنٹس ہیں جہاں کھانا پکانے کے لیے جگہ عین ٹوائلٹ کے ساتھ ہی موجود ہے۔ کئی لوگ اس طرح کے حالات کو غیر انسانی تو سمجھتے ہیں لیکن ان میں رہنے پر مجبور بھی ہیں۔
1997ء میں ہانگ کانگ کے چین کے حوالے کیے جانے سے پہلے برطانیہ اور چین کے مابین جو امور طے ہوئے تھے، ان کے تحت ہانک کانگ کے تقریباﹰ ساڑھے پانچ ملین شہریوں سے ان کی آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے وعدے کیے گئے تھے۔
برطانیہ کو لیکن شکایت یہ ہے کہ چینی حکام اب نا صرف ہانگ کانگ سے متعلق واقعات اور مقدمات میں وہاں اپنی عمل داری ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہاں کے حالات واقعات تک کی چھان بین بھی ہانگ کانگ میں مقامی اہلکاروں کے بجائے چینی حکام کرتے ہیں۔


