بلوچستان کی زمین فروخت کی بجائے شراکت داری پر دی ہے، زبیدہ جلال،جام کمال

کوئٹہ(این این آئی) وفاقی وزیر دفاعی پیداوارزبیدہ جلال اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر بلوچستان کی سماجی و اقتصادی بہبود کے منصوبوں پر عملدآمد کر رہی ہیں، گوادر میں شپ یارڈ کی تعمیر سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگارملنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا، شپ یارڈ میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائیگی جبکہ منصوبہ پانچ سے سات سال میں مکمل ہوگا، بلوچستان عوامی پارٹی نے تاریخی فیصلے کے تحت صوبے کی زمین فروخت کرنے کی بجائے اسے شراکت داری کی بنیادوں پر دیا ہے جس سے صوبے کو ریونیو ملے گا، صوبائی حکومت شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر عمل پیرا ہے کسی بھی بد عنوان آفیسر کا تحفظ نہیں کریں گے، صوبے میں 10ہزار کورونا وائرس ویکسین پہنچ رہی ہیں پہلے مرحلے میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن ڈاکٹروں سمیت صحت عملے کو ویکسین لگائی جائیگی۔یہ بات انہوں نے منگل کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گوادر شپ یارڈ تعمیر منصوبے کی مفاہمتی یاداشت دستخط کرنے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صوبائی وزراء میر عارف جان محمد حسنی،میر سلیم کھوسہ،پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے کہا کہ گوادر میں شپ یارڈ بنانے کا منصوبہ تاریخی ہے ملک میں اس وقت صرف کراچی میں ایک شپ یارڈ ہے جبکہ بھارت میں اس وقت 43اور بنگلہ دیش میں 26شپ یارڈ ہیں گوادر شپ یارڈ کراچی سے بڑا جہاں جہاز تعمیر بھی کئے جائیں گے اس منصوبے کو جغرافیائی اہمیت بھی حاصل ہے جہاں عالمی سطح پر گزرنے والے جہا ز مرمت کے لئے آسکیں گے جبکہ اگر یہی جہاز اپنے ممالک میں واپس جائیں تو کم و بیش 350ملین ڈالر خرچ آئیگا انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد یہاں مقامی لوگوں کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کو بھی ریونیو حاصل ہوگا مقامی لوگوں کو تکینکی معاونت تربیت دینے کے لئے انہیں ہیوی انڈسٹری انسٹی ٹیوٹ ٹیکسلا بھیجا اور گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو فعال بنایا جائیگا پہلے مرحلے میں مینجمنٹ کے لوگ غیر مقامی ہونگے جبکہ مقامی لوگوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد انہی ہی شپ یارڈ میں اعلیٰ عہدوں کر ترقی دی جائیگی انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے اڑھائی برس قبل صوبے کی زمین فروخت نہ کرنے کا درست فیصلہ کیا آج صوبے کو منصوبوں میں شراکت داری کی بنیادوں پر حصہ دیا جارہا ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بہترین تعاون سے ساتھ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کر رہی ہیں نہوں نے کہا کہ محکمہ دفاعی پیداوار کپڑ گاؤں کو سی ایس آر کے تحت بنیادوں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور علاقے کی ذمہ داری اٹھائے گا منصوبے کا دفتر گوادر میں کھول دیا گیا جبکہ اسکی فیزیبلٹی اسٹڈی کا کام دو سے تین سال میں مکمل ہونے کے بعد عملی طور پر منصوبے کی تعمیر کا کاشروع کردیا جائیگا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اقدامات سے صوبے میں خوشحالی اور معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا گوادر شپ یارڈ کی تعمیر سے کاروباری طبقے، عام آبادی سمیت بلوچستان کو مجموعی طور پر فائدہ پہنچے گا یہ شپ یارڈ عالمی میری ٹائم روٹ پر واقعہ سے جس سے اسکی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا انہوں نے کہا کہ بلوچستان دوسرے صوبوں کی نسبت معاشی طور پر مستخکم نہیں ہے تاہم حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہزاروں کولوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گوادر میں سیاحت کو فروغ، جیٹی، فش پراسسنگ یونٹ سمیت دیگر منصوبے بنا رہی ہے جبکہ شپ یارڈ منصوبے میں جو آبادی آرہی ہے تھی اسے چھیڑا نہیں جائیگا، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے روز اول سے بدعنوانی کی سرکوبی کے اقدامات کئے ہیں اگر چہ کہ بعض جگہ پر اب بھی خامیاں موجود ہیں لیکن کئی محکموں کو بہتر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی بھی بد عنوانی آفیسر کا تحفظ نہیں کیا صوبائی حکومت نے نیب کے ساتھ احتساب کو بہتر کرنے کے لئے معاہدہ بھی کیا ہے حکومت شفافیت اور احتساب کے قوانین پر عمل پیرا ہے ہم چاہتے ہیں کہ سزاو جزا کے عمل بہتر بنا کر لوگوں میں بد عنوانی کا خوف پیداکریں ہمارے دور حکومت میں فشریز کا اسکینڈل آیا ہے جس میں دو افسران نیب کی حراست میں ہے جبکہ محکمہ صحت کا کیس تین سال پرانا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزراء اور محکموں کی کارکردگی کا گاہے بگاہے جائزہ لیتی ہے اندرونی طور پر کارکردگی کو بہترکرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں افسران کی کارکردگی جانچنے کے لئے کی پرفارمنس انڈیکیٹر بنائے گئے ہیں جن سے متعلق ایک ماہ بعد میڈیا کوآگاہ کرونگا جبکہ وزراء میں زیادہ تر کی کارکردگی بہتر ہے بعض وزراء کی کارکردگی بہتر نہیں لیکن اس میں بھی بہتری لانے کی کوشش کی جارہی ہے قلمدان تبدیل کرنا حکومت کا حصہ ہے تاہم فل الحال کسی بھی وزیر کا قلمدان تبدیل نہیں کیا جارہا وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ پی ڈی ایم اے میں بد عنوانی کی تحقیقات سی ایم آئی ٹی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی 10ہزار ڈوزیں پرسوں پہنچ رہی ہیں پہلے مرحلے میں کورونا وائرس کے فرنٹ لائن پر فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹروں اور صحت عملے کو ویکسین لگائی جائیگی انہوں نے کہا کہ مچھ واقعہ کے بعد سیکورٹی صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا گیا صوبائی حکومت صوبے کے 33اضلاع میں چھوٹی سطح کی سیف سٹی منصوبے بنائے گی ساحلی علاقوں میں بھی سیکورٹی حصار کو بہتر بنایا جارہا ہے اب تک خفیہ اطلاعات پر کئے جانے والے آپریشنز میں کئی اہم دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں ہم امن و امان کو مزید بہتر بنائیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھاگ ناڑی پانی منصوبہ اس سال مکمل کریں گے جبکہ کچھی کینال فیز iiپر وفاقی حکومت کام کر رہی ہے منصوبے کے پہلے مرحلے میں 25سے 30ہزار ایکٹر اراجی آباد ہوئی آئندہ 2سے 3سال میں فیز IIبھی مکمل کرلیا جائیگا انہوں نے کہاکہ صوبے میں ہیلتھ انشورنس کا منصوبہ لارہے ہیں جبکہ اب تک 1500سے زائد لوگ بلوچستا ن عوامی انڈوومنٹ فنڈ سے مستفید ہوچکے ہیں۔اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری دفاعی پیداوار غلام جعفر جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے سیکرٹری انڈسٹریز حافظ الماجد نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں