پشین ضمنی الیکشن، جمیعت نظریاتی نے بی اے پی کی حمایت کردی

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام (نظریاتی)نے حلقہ پی بی 20پشین 3پر ضمنی انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کااعلان کردیا۔ اس بات کااعلان جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی نے بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اسفند یار خان کاکڑ، حلقہ پی بی 20 پشین تھری کے امیدوار عصمت اللہ ترین، سیف الرحمن تارن ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ ملک میں لوٹ مار کرنے والے آج پی ڈی ایم کہ شکل میں ایک ہوئے ہیں جمعیت نظریاتی کی جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان سے علیحدگی کا ایک نقطہ کرپشن بھی تھا اس وقت جمعیت کے صوبائی وزرا ء نے لوٹ مار مچائی تھی جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا یہی حال تھا پشین پی بی 20 تھری کے ضمنی انتخابات پر جمعیت علماء اسلام (نظریاتی) کے سید جلیل آغا بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں،ہمارے گزشتہ ہفتے سے مذاکرات جاری تھے اور جمعیت نظریاتی نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہم نے پی ڈی ایم کے خلاف یکجا ہو کر اتحاد کریں گے انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کا ایجنڈا ملکی مفاد میں نہیں ہے لانگ مارچ ہو یا دیگر عوامی جلسے اس کے نتیجے میں ملک کونقصان پہنچاہے،انہوں نے کہاکہ ہم آزمائے ہوئے کودوبارہ آزمانا بے وقوفی سمجھتے ہیں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو عوام نے آزمائے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم آئینی ترمیم کے حق میں ہے اور آئین میں ترمیم کرکے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہونی چاہیے خفیہ رائے شماری میں خرید و فروخت ہوئی،انہوں نے صدر مملکت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے،صحافیوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام نظریاتی ایک سیاسی مذہبی جماعت جو نظریات کے تحت بنی ہیں،ہم نے ہمیشہ حکومت کے اچھے کام کی حمایت کی اور برے کام کی مخالفت کریں گے،انہوں نے کہاکہ میڈیا کے ذریعے پتہ چلاہے کہ مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف سے لانگ مارچ کیلئے 5 ارب روپے کامطالبہ کیا ہے مولانا نے پی ڈی ایم کو ٹیکے پر لیا ہے مدارس کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے پہلے استعفوں کا اعلان کیا اور اب یوٹرن لیکر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کی کرپشن روز روشن کی طرح عیاں ہے،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) سے بہتر انداز میں عمران خان نے جنرل قومی اسمبلی میں مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے،انہوں نے کہاکہ مولانامحمد خان شیرانی کے ساتھ ہمارے اختلافات آج سے نہیں بلکہ پہلے سے ہیں ان کے افغانستان میں طالبان اور اسرائیل سے متعلق موقف کو اگر وہ تبدیل کرتے ہیں توہم پھر ہم بیٹھ سکتے ہیں تاہم ان کے ساتھ دیگر ساتھیوں سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسفندیار خان کاکڑ نے کہا کہ جمعیت نظریاتی کے قائدین کے شکر گزار ہیں بی اے پی کی طرف سے ان کا ممنون ہیں نظریاتی کے پشین میں اچھا اثر و رسوخ ہیں انہوں نے ہمیشہ قومی مفاد کا ساتھ دیا ہے سابقہ الیکشن کے بنسبت نتائج مثبت ہیں ہمارا مقابلہ پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم الیکشن جیت جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں