مستقلی کے آرڈرز فوری جاری کئے جائیں، گلوبل ٹیچرز کی مستونگ میں پریس کانفرنس
مستونگ:گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن پراجیکٹ کیضلعی صدر فرخندہ گل،نائب صدر فیض بی بی،پری گل، نسرین،شبانہ بہرام،نایاب عزیز ثمینہ حبیب و دیگر اساتذہ نے سراوان پریس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن پراجیکٹ اور محکمہ ایجوکیشن کے درمیان 2015 میں ایک معاہدہ طے پایا جس میں GPE پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے بلوچستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں سکول تعمیر کئیے گئے اور NTS کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جس کے تحت 2016 سے 2018 صوبے کے پسماندہ علاقوں میں 775 نئے سکولز اور ان میں 1489 میل۔ فی میل اساتذہ تعینات کئیے گئے۔ جو اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں اور بلوچستان میں تعلیمی کی ریشو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت جون 2018 میں 1489 اساتذہ کو مستقلی کے آرڈر کئے جائینگے دسمبر 2018 میں صوبائی اسمبلی کے کابینہ اجلاس میں مزید ایک سال کے لیئے کنٹریکٹ پر جاری رکھنے کی قرارداد منظور کرائی گئی اور جون 2019 میں تمام اساتذہ کو مستقل کرنے کی سفارش کی گئی مگر سوائے طفل تسلی کے ان قراردادوں پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ حالیہ دنوں میں ہمارے احتجاج کے بعد صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند صاحب نے ہمارے مستقلی کی سمری وزیر اعلی بلوچستان کو اپرول کے لیئے ارسال کر دی لیکن وزیر اعلی جام کمال نے اپرول نہ دے کر تمام اساتذہ میں مایوسی کی کیفیت پیدا کر دی وزیر اعلی کے اس اقدام کے بعد صوبے کے تمام جی پی ای اساتذہ نے کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کی اور مجبورا اپنے حق کے لیئے سخت سردی میں اپنے بچوں سمیت صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا۔ صوبائی وزیر تعلیم اور ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے احتجاجی کیمپ آکر ہماری حوصلہ افزائی کی اور یقین دہانی کرائی کہ 15 دنوں میں مستقلی کی سمری دوبارہ مکمل کر کے وزیر اعلی سے اپرول لے کر مستقلی کی آرڈر جاری کرینگے وعدہ کے مطابق مقررہ وقت گزرنے کے باوجود تاحال نہ ہمیں تنخواہیں ادا کی گئی اور نہ ہی مستقلی کے آرڈر جاری کئے گئے۔ سردار یار محمد رند اور بابر خان موسی خیل کی کوشیشوں اور تعاون سے ایک مرتبہ پر سمری وزیر اعلی کو پیش کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جی پی ای اساتذہ این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے تعینات ہوئے اور اسناد کی مکمل ویریفکیشن ہوئی DRC اور CRC ہوئے اور ٹیچرز کو پرسنل نمبرز بھی دیا گیا جو ملازمین کو دئیے جاتے ہیں۔ ان 1489 اساتذہ کو تنخواہیں بھی ایک سال گزرنے کے بعد ادا کئے جاتے ہیں جو سراسر نا انصافی کے مترادف ہے۔ جولائی 2020 سے تا حال 8 مہینوں سے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں مستونگ میں 38 فی میل اساتذہ 5 سالوں سے مختلف سکولوں میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ہم جی پی ای اساتذہ وزیر اعلی وزیر تعلیم چیف سیکرٹری سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ہمیں جائز حق دے کر جلد از جلد تمام اساتذہ کی بند تنخوائیں ادا کیئے جائیں اور مستقلی کے آرڈر جاری کئے جائیں بصورت دیگر GPE ایکشن کمیٹی بلوچستان سے مشاورت کے بعد تمام اساتذہ سخت سے سخت لائے عمل طے کر کے احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔


