آئیں عطا شاد سے وفا کریں

ضیا شفیع بلوچ

کوہساروں کی عطا رسم نہیں خاموشی
رات سو جائے تو بہتا ہوا چشمہ بولے

واجہ عطا شاد کو ہم سے بچھڑے چوبیس بسر بیت گئے مگر چوبیس برس گزر جانے کے بعد بھی واجہ عطا شاد کو آج تک ہم سمجھ نہ پائے۔
دو دن پہلے کی بات ہے۔ خاران وشتام ہوٹل کے باہر ہم چند ہم فکر دوست ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ میں مصروف عمل تھے کہ خاران کے ادبی ادارے کے ایک اہم عہدیدار ہمارے قریب آ کر مجھے اشارے سے اپنے پاس بلا کر کہنے لگا کہ دو دن بعد ہمارے کارگس میں واجہ عطا شاد کا چوبیسواں سالروچ ادبی ادارے کی طرف سے منایا جا رہا ہے ہو سکے تو آپ بھی اپنے دوستوں کے ساتھ آجانا۔
میں نے پوچھا کہ صرف آنا ہے یا واجہ عطا شاد کے بارے میں کچھ کہنے کا موقع بھی ملے گا۔۔۔۔۔۔۔ تو ادبی دوست نے تھوڑا مسکرا کے جواب دیا کہ ہمارا مقصد ایک رسماً ادا کر کے سالروچ منانا ہے البتہ مشاعرہ تو کنفرم ہے۔ یہ سن کر میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اسے ہوٹل کے اندر لے کر جا اپنے پاس بٹھا کر کہا کہ دوست آپ ایک ادبی ادارے کو لیڈ کر رہے ہو آپ کے سامنے چند ایسے سوالات رکھوں گا جنکا پوچھنا میرے لئے اور سننا آپکے لئے لازم و ملزوم ہے۔ اگر آپ ناراض ہو جاو گے ہو جائیں تب بھی آپ سے پوچھ کے رہونگا کیوں کہ آپکا مسکرا کر رسماً والی بات نے مجھے کافی حیرت میں ڈال دیا کہ آخر کب تک ہم عطا شاد کو خود پے بوجھ سمجھ کر صرف رسماً انکا سالروچ ادا کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک اسٹیج پے آ کر واجہ عطا شاد کے بارے میں یہی کہتے رہیں گے کہ 1939 میں تربت سنگانی سر میں پیدا ہوئے 1997 کو ہم میں نہیں رہے؟ آخر کب تک ہم صرف یہی کہتے رہیں گے کہ انکے اردو کے شعری مجموعے سنگاب، برفاگ بلوچی کے مجموعے روچ گر، شپ سحار اندیم اور اب جب نیند ورک الٹے گی (اردو کلیات) جسے افضل مراد نے چھاپ و شنگ کیا ہے؟ آخر کب تک ہم صرف یہی رسم ادا کرتے رہیں گے بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے گلزمین کے نام سے واجہ عطا شاد کا کلیات بھی شائع کیا ہے جو کافی ہے۔ آخر کب تک ہم یہی کہتے رہیں گے کہ تربت ڈگری کالج بھی واجہ عطا شاد کے نام سے منسوب ہے وہ عظیم کارنامہ ہے۔ آخر کب تک ہم خود کو یہی تسلی دیتے رہیں گے کہ عطا شاد کے نام تربت میں ایک اکیڈمی بھی ہے جن سے عطا شاد کا نام زندہ تو ہے۔
اچھی بات ہے کہ واجہ عطا شاد کے نام ڈگری کالج تربت منسوب ہے یہ بھی اچھی بات ہے کہ عطا شاد کے نام ایک ادبی ادارہ بھی ہے مگر سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ڈگری کالج عطا شاد کے نام پے ہے کیا کالج اسٹاف کی طرف سے کبھی عطا شاد کے فکر و فلسفہ جو بلوچی اور اردو زبان میں ان کے اشعار کے طور ہمارے مڈی ہیں پے کوئی چیئر تشکیل دی گئ ہے۔ ڈگری کالج تو ایک تعلیمی ادارہ ہے اگر نہیں کیا ہے پھر بھی انہیں مورد الزام ٹھہرایا نہیں جا سکتا کیوں کہ ایسے کام ادبی اداروں کا ہوتا ہے تو کیا جو ادبی ادارہ واجہ عطا شاد کے نام پے بنی ہے اس نے کبھی بلوچستان و خلیج کے ادبی اداروں کو ایک ریکویسٹ کی ہے آجائیں مل کر کے عطا شاد کے فکر و فلسفہ پے کام کرتے ہیں۔ کیا ہمارے بلوچستان کے وہ ادبی ادارے جو سالانہ لاکھوں کروڑوں گرانٹ زبان و ادب کی خدمت کی صورت میں لیتے ہیں کیا انھوں نے کبھی عطا شاد پے ملکی سطح یا عالمی سطح پے کوئی سیمینار تشکیل دی ہے؟ کیا آپ کے اپنے ادارے نے؟ جی نہیں۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہم صرف رسم ادا کرتے والے قوموں میں دے ہیں ہم صرف اپنے لیجینڈز کے نام کوئی روڑ رکھنے والے قوموں میں سے ہیں یا جس دن انکا سالروچ ہو ایک پیناپلیکس بناتے ہیں پیناپلیکس کو پیچھے لگا کر سوٹ بوٹ ہر کر اسٹیج پے آکر واہ واہ کرنے والے قوموں میں سے ہیں۔
خدا جانتا ہے کہ عطار شاد کا فکری اروح رسماً واجہ عطا شاد کے نام کوئی سیمینار رکھنے کے حق میں نہیں ہے اور نہ ہی واجہ عطا شاد کا عظیم نام ان ایکٹویٹیز کا محتاج ہے۔
عطا شاد نے کبھی بھی نہیں کہا کہ میں اس لئے لفظوں کی فکری تپش میں اس لئے خود کو جلا رہا ہوں تاکہ میرے نام پے منسوب کوئٹہ میں کوئی روڑ ہو۔ عطا شاد تو کوئٹہ کے زمستان میں ہو کر بولان کے لیے گیت گاتے تھے۔
وفا یک مہر یک ارمانی ئیں دل یک منزل یک
پہ تو بھنبھور بات آباد ءُ پہ من مِہرمیں بولان
عطا شاد تو کوئٹہ کے زمستان میں رہے کر اپنے دشت کو یاد کر یہی کہا کرتے تھے کہ
بیا منی واھگ ءِ گرمیں جنت
کوئٹہ ءَ آس مہ بیت دوزح بیت
عطا شاد کوئٹہ کے یخ بستہ زمستان میں جی کر بھی مدام اپنی محبوبہ اپنی مٹی کو یاد کر یہی کہتے تھے کہ
گھر کے باہر ہے زمستان بہت سردی ہے
یہیں رہ جاو میری جان بہت سردی ہے
دور تک کوئی نہیں یخ کے شرابے میں عطا
ہے شرر خانہ امکان بہت سردی ہے
عطا شاد تو ہم جیسے نا سمجھ اور ادب کا ڈھونگ رچانے والے نام نہاد زبان دوستوں کے لئے ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ
بد ہما انت کہ منی مرگ ءَ پد
کئیت منی قبر ءِ سروُن ءَ نالیت
صدیوں سال پہلے “یوژی” چین کے ایک شاعر گزرے ہیں ابھی تک انکا نہ کوئی شعری مجموعہ سامنے آیا ہے نہ انکا کوئی پوری نظم۔ انکے دو مصروں نے ہی چین کی پوری نسل کو زندہ رہنا سکا دیا دنیا کے ساتھ چلنا سکھا دیا۔ یوژی کے دو مصرے
Make yourself special
Then you will be able to turn the world upside down
جو سینہ در سینہ 1400 عیسوی کے لگ بھگ ایک استاد کے ہاتھ آجاتے ہیں۔ “یوژی” کے انہی دو مصروں کے ذریعے وہ ایک نسل کو فکری و شعوری حوالے سے تیار کر کے انہیں “یوژی” کا پیروکار بنا دیتا ہے۔
مگر ہم تو صرف رسم کرنے والے ہیں۔ عطا شاد کے بے بہا مڈویوں میں جی کر ہم ادبی اپائج بنے پڑے ہیں۔ جسکی کی وجہ سے دنیا آج عطا شاد سے ناواقف ہے کیوں کہ ہم اپنے ادیب اور شاعروں کو خود پے بوجھ سمجھنے والے ہیں۔ اب بھی وقت ہے آو عطا شاد کا یہ نظم کو
“میری زمیں پر
ایک کٹورہ پانی کی قیمت
سو سال وفا ہے
آؤ ہم بھی اپنی پیاس بجھائیں
زندگیوں کا سودا کر لیں”

پڑھ لیں اور ایک کٹورہ پانی عطا شاد کی فکری مڈویوں کی میخانے سے پی کر ہم بھی عطا شاد سے یہ وعدہ وفا کریں کہ ہم نے اپنی زندگیوں کو آپکے نام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ سن کر میرا ادبی دوست یہ کئے کر نکل گئے کہ “یہ کام سرکار کا ہے آپ مفت میں ہمیں ملامت کر رہے ہو۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں