ماہ رمضان: عوامی ریلیف کے جامع و تاریخی اقدامات
تحریر: عنایت الرحمان
ماہِ رمضان المبارک صبر، تقویٰ، ایثار اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ یہ مقدس ایام ہمیں نہ صرف روحانی بالیدگی کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتے ہیں کہ ہم ضرورت مندوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ اسی جذبہ خیر سگالی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس سال رمضان المبارک میں عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔
وفاقی سطح پر شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے خطیر حجم پر مشتمل رمضان ریلیف پیکیج 2026 کا باقاعدہ اجرا کیا۔ اس پیکیج کے تحت ملک بھر کے ایک کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں کو بلا تفریق فی خاندان 13 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے بٹن دبا کر رقوم کی منتقلی کے عمل کا آغاز کیا جو ڈیجیٹل والٹس اور بینک اکاﺅنٹس کے ذریعے شفاف انداز میں جاری ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سال امدادی رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے دباو¿ میں گھرے مستحق خاندانوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ گزشتہ برس پانچ ہزار روپے دیے گئے تھے، تاہم اس سال اسے بڑھا کر تیرہ ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ 21 لاکھ سے زائد ایسے خاندان بھی اس پیکیج سے مستفید ہوں گے جو کسی سرکاری کفالت پروگرام کا حصہ نہیں تھے، جبکہ پہلے سے زیر کفالت ایک کروڑ خاندانوں کے لیے بھی 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 6 کروڑ افراد اس رمضان پیکیج سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے یوٹیلٹی اسٹورز کے فرسودہ نظام کو ختم کرتے ہوئے ڈیجیٹل اور براہِ راست ادائیگی کے شفاف نظام کو متعارف کرانے کو ایک اہم اصلاح قرار دیا۔ نگرانی کے لیے وفاقی وزراءپر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائن 9999 بھی فعال کر دی گئی ہے۔
صوبائی سطح پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان نے بھی 3 لاکھ 28 ہزار مستحق خاندانوں کے لیے خصوصی رمضان پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کی تقسیم مرحلہ وار جاری ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے 8 رکنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ راشن کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔ ابتک 20 سے زائد اضلاع میں رمضان پیکج پہنچایا جا چکا ہے جبکہ باقی اضلاع میں بھی فراہمی کا عمل جاری ہے اس پیکج کو ہر خاندان کی 15 روزہ ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ماہ مقدس میں انہیں حقیقی ریلیف میسر آسکے۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر مو¿ثر کنٹرول یقینی بنایا جائے اور عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے۔ صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی کے ذریعے پرائس کنٹرول سستا بازاروں کے قیام اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اسی تسلسل میں ضلع سبی میں اسسٹنٹ کمشنر منصور علی شاہ کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تاجروں کو سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد، منافع خوری سے اجتناب اور ریٹ لسٹ نمایاں آویزاں کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا۔ مزید برآں، سبی میں سستا بازار قائم کیا گیا جہاں فروٹ، سبزیاں، گوشت، دودھ، دہی، کھجور اور دیگر اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی گئیں تاکہ عوام کو براہِ راست ریلیف مل سکے۔سبی انتظامیہ کی جانب سے سستا بازار کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو معیاری اشیاءمناسب قیمتوں پر دستیاب رہیں اور کسی قسم کی شکایت پیدا نہ ہو
ماہ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بننا ہی اصل عبادت ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے تاریخی رمضان ریلیف پیکیج، وزیراعلیٰ بلوچستان کے صوبائی اقدامات اور ضلعی انتظامیہ کی عملی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگر یہی جذبہ تعاون، دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری برقرار رہا تو رمضان کی برکتیں نہ صرف روحانی سکون بلکہ معاشی آسودگی کی صورت میں بھی نمایاں ہوں گی۔


