محراب خالد خوابوں کا مسافر، کہانیوں کا فنکار اور ایک لاپتا دوست

تحریر: سرفراز شاہ
کچھ لوگ صرف دوست نہیں ہوتے، وہ ایک دلکش احساس، ایک خوبصورت یاد اور ایک یادگار کہانی بن جاتے ہیں۔ محراب خالد بھی میرے لیے ایک ایسا نام ہے جسے میں نے بچپن اور جوانی کے ان دنوں سے واقف ہوا جب ہم ایک ہی انگریزی سینٹر میں پڑھتے تھے۔ ڈرامہ، اسٹیج شو، اداکاری، ہدایت کاری اور رقص ہر تخلیقی میدان میں محراب ہمیشہ نمایاں نظر آتا تھا۔ ہجوم میں بھی اس کی موجودگی ایک الگ پہچان رکھتی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک خاص توانائی، تخلیقی سوچ اور مسلسل کچھ نیا کرنے کا جذبہ تھا۔
بعد میں جب میں نے میڈیا کے شعبے میں قدم رکھا اور گدروشیا پوائنٹ کا آغاز کیا تو محراب ان چند لوگوں میں شامل تھا جن پر مجھے سب سے زیادہ اعتماد تھا۔ وہی میرے لئے سب کچھ تھے۔ سب سے قریب، عزیز اور قیمتی تھے۔
2021 میں وہ ادارہ گدروشیا پوائنٹ سے منسلک ہوا اور یہاں اس نے ویڈیوگرافی، ایڈیٹنگ اور تخلیقی پروڈکشن میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ وہ صرف کیمرہ آپریٹر یا ویڈیو ایڈیٹر نہیں ہیں بلکہ بہترین ڈائریکٹر ہر پروجیکٹ میں نئی سوچ اور نیا زاویہ شامل کرنے والا تخلیقی ذہن کا مالک ہے۔ محراب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ محدود وسائل کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیتا تھا۔ بلکہ انہیں اپنی طاقت میں بدل دیتا تھا۔ جدید آلات اور سہولیات کی کمی کے باوجود اس کے کام کا معیار ہمیشہ نمایاں رہتا تھا۔ وہ گھنٹوں محنت کرتا، بار بار شاٹس لیتا اور ہر پروجیکٹ کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگا رہتا۔ کوئٹہ میں مختلف میوزک اور فلمی پروجیکٹس کے دوران میں نے اسے قریب سے دیکھا کہ وہ کس طرح کم وسائل میں بھی غیر معمولی نتائج پیدا کرتا تھا۔ اس کے نزدیک کامیابی کا تعلق وسائل سے نہیں بلکہ وژن، محنت اور ذہانت سے تھا۔
محراب خالد نے بلوچی فلم اور موسیقی کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ بطور ہدایتکار، ایڈیٹر، سینماٹوگرافر اور اسکرین رائٹر مختلف پروجیکٹس کا حصہ رہے۔نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں اس کے فلمی سفر میں کئی اہم تخلیقات شامل ہیں، جن میں ”گلزمین (Motherland)“، ”دی ریڈ سرکل“، ”مہر“، ”ہ±شکیں پن“، ”لاڈو“، ”بیگاوا“، ”دانکو“ اور بعد کے دستاویزی پروجیکٹس ”س±ورَت“ اور ”مائی آنٹس اولڈ روم“ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے بلوچی میوزک انڈسٹری میں بھی بطور سینما ٹوگرافر اور تخلیقی معاون خدمات پیش کیں، جہاں اس نے کئی معروف گانوں اور ثقافتی پروجیکٹس پر کام کیا۔ اس کی دو فلمیں بین الاقوامی سطح پر بھی اسکرین کے لیے منتخب ہوئیں، جو اس کی صلاحیت اور محنت کا واضح اعتراف ہے۔
محراب کا خواب نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں تعلیم حاصل کرنا تھا۔ جب اس کا انتخاب ہوا تو یہ اس کی زندگی کا نہایت یادگار اور خوشیوں بھرا لمحہ بن گیا۔ لیکن لاہور میں تعلیم، رہائش اور فیس جیسے اخراجات اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے۔ وہ مسلسل مالی مشکلات کا سامنا کرتا رہا۔ معاشی تنگی سے نمٹنے کیلئے وہ پارٹ ٹائم پروجیکٹس اور فری لانس کام بھی کرتا رہا تاکہ وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکے۔ عید سے صرف دو دن پہلے اس سے میری بات ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ اس بار عید کے موقع پر گھر نہیں آسکے گا کیونکہ وہ کچھ ضروری تعلیمی اور مالی معاملات مکمل کرنے میں مصروف ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی دو سمسٹرز کی فیس ادا کرنے کے لیے پارٹ ٹائم کام اور نئے پروجیکٹس کے ذریعے مسلسل تگ و دو میں مگن تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ اس کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ بلوچستان کی کہانیوں، ثقافت اور لوگوں کی آواز کو کیمرے کی آنکھ سے دنیا تک پہنچانا ہے۔ چند ماہ قبل اس نے اپنی والدہ کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بنائی تھی اور اکثر کہتا تھا کہ اگلا پروجیکٹ اپنے والد کے نام پر کرے گا۔ اس کے والد آج بھی اسی خواب کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ محراب صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک زندہ سوچ، ایک تخلیقی سفر اور ایک بڑے خواب کا عکاس تھا۔
تاہم 30 مئی 2026 سے محراب خالد گمشدہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ لاہور کے علاقے انارکلی سے لاپتا ہوا جس کے بعد سے اس کے اہل خانہ، دوستوں اور وابستہ اداروں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ کئی دن گزرنے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اس کی والد، والدہ اور اہل خانہ شدید کرب سے گزر رہے ہیں اور انکی آمد کی منتظر ہیں۔ محراب خالد صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک خواب ہے. ایک ایسا خواب جس نے محدود وسائل میں بھی اپنے لیے راستے تراشے، اپنی محنت سے پہچان بنائی اور اپنی کہانیوں سے لوگوں کی دلوں کو چھو لیا۔
محراب خالد ایک باوقار انسان ہیں۔ انہوں نے مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف پروجیکٹس پر کام کیا اور سب نے ان کی عزت و احترام حاصل کیا۔ آج ہر کوئی ان کے لیے آواز بلند کر رہا ہے اور ان کی محبت و شفقت کو یاد کر رہا ہے، چاہے وہ ان کے دوست ہوں، روم میٹ ہوں، ساتھی صحافی ہوں یا ہم پیشہ فنکار۔ ہم سب کی دعا ہے کہ محراب خالد جلد از جلد اور بخیریت اپنے گھر واپس لوٹے۔ اس کی کمی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، اور اس کے گھر والے، دوست اور ساتھی اس کے انتظار میں بےحد بےتاب ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے