لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا عمران خان کے آنے تک احتجاج ختم کرنے سے انکار

سلام آباد(نیوز ایجنسیاں) بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کا اسلام آباد میں ڈی چوک پر دھرنا جاری ہے اور دھرنے کے شرکاء اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں مسلم لیگ ن کی نائب صد رمریم نواز نے دھرنے میں جاکر لاپتہ افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا جس کے بعد حکومت بھی حرکت میں آگئی انہوں نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے مذاکرات کر کے قانون سازی کی یقین دہانی کروائی تاہم لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے ڈی چوک پر بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا گزشتہ روز لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد پریس کلب سے ریلی نکالی اور ڈی چوک کی جانب جانے کی کوشش کی تھی جس پر سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روکا تاہم وہ تمام رکاوٹیں توڑ کر ڈی چوک میں داخل ہو گئے اور دھرنا دیا جو بدستور جاری ہے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دھرنے کا دورہ کر کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ملکی اداروں کی مجبوریاں ہو سکتی ہیں خدا کے واسطے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو یہ بتا دیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا مر گئے ہیں پہلے انسان کی باتیں بڑی بڑی ہوتی ہیں جب اقتدار مل جاتا ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور مجبوریاں سامنے آجاتی ہیں جب کمیشن کی فائنڈنگ پر عمل ہی نہیں ہونا تو پھر کمیشن بنانے کا کیا فائدہ کم از کم مظلوموں کے زخموں پر نمک مت چھڑکیں لاپتہ افراد کو بتایا جائے یہ لوگ کچھ نہیں کریں گے رو دھو کر چپ ہو جائیں گے لیکن جو قیامت ان کے دل پر گزرتی ہے اسے تو قرار آئے گا انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کے صرف انسان کی مجبوریاں اس کے فرض سے بڑی ہوتی ہیں چاہیے آپ سلیکٹڈ ہیں آپ کو جس طرح اقتدار میں بیٹھایا گیا لیکن ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اگر ان کے پیارے بازیاب نہیں کر سکتے تو آپ یہ تو کر سکتے ہیں کے جن کے پیارے اس وقت ٹارچرز سیلز میں ہیں انہیں بتادیں کہ ان کے پیارے کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ اگر کسی بچے کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم یتیم ہیں یا ہمارے والد زندہ ہیں جس ماں کو یہ نہ معلوم ہو کہ بیٹا زندہ ہے کہ مر گیا کسی بیوی کو یہ پتہ نہ ہو کہ وہ بیوہ ہے یا اس کا شوہر زندہ ہے انہوں نے کہا کہ میں عمران خان سے کہنا چاہتی ہوں کہ وزیر اعظم ہاؤس یہاں سے فاصلے پر نہیں شاید پانچ منٹ کا راستہ ہے اور ان بچیوں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک ہفتے سے یہاں موجود ہے تو آپ نے ایجنسیز کو جواب نہیں دینا آپ اللہ تعالیٰ کو جواب دے ہیں اگر آپ کے اختیار میں کچھ نہیں لیکن آپ ان کے سروں پر ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں آپ کو کہنے کے لئے صرف یہ بات ملی ہے کہ میں لاشوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا یہ لاشیں نہیں زندہ لاشیں ہیں لیکن جیتے جاگتے لوگ ہیں آئیں اور ان کی بات سنیں مریم نواز نے کہا کہ جب مجبور لوگ احتجاج کرنے ڈی چوک پر آتے ہیں تو خود بھی ایسے بیانات نہ دیں اور وزراء کو بھی روکا کریں کہ ہمارے پاس کچھ ایکسپائر شیل رکھے ہوئے انہیں ٹیسٹ کر کے دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے پاس دل ہے آپ کو خدا کا خوف نہیں آتا انہوں نے کہا کہ آپ کی یہ باتیں قبر تک آپ کا پیچھا کریں گی اور ایک وفاقی وزیر نے یہ کہاکہ وہ پنجاب اور بلوچستان کا موازنہ کررہے تھے خدا کا واسطہ ہے مظلوم کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا۔دریں اثناء وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی لاپتہ افراد کا معاملہ زیر غور آیا وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں قانون لانے کا عمل تیز کیا جائے دوسری جانب مریم نواز کی یکجہتی کے بعد حکومتی مشینری حرکت میں آگئی وزیر داخلہ شیخ رشید نے لواحقین میں سے کچھ خواتین کو مدد کے لئے بلوایا اور انہیں بھر پور مدد کی یقین دہانی کروائی وزیر داخلہ نے گمشدہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور کہاکہ یہ ایک انسانی معاملہ ہے۔ہم اس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے میں۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ گمشدہ افراد کی بازیابی کے لئے تمام ادارے عملی اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتی کوششوں سے بہت سے گمشدہ افراد کو بازیاب بھی کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی کابینہ اجلاس میں گمشدہ افراد کے حوالے سے قانون لانے کا کہا ہے۔وزارت قانون گمشدہ افراد کے حوالے سے قانونی پہلووں کا جائیزہ لے رہی ہے۔شیخ رشید احمد نے کہاکہ گمشدہ افراد کی جلد سے جلد بازیابی کے لئے تمام حکومتی وسائل استعمال کریں گے۔لاپتہ افرادکے لواحقین نے وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ وزیر داخلہ نے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی احتجاج ختم نہیں کریں گے وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم لاپتہ افراد کا دھرنا ختم کرنے کیلئے کیمپ پہنچ گئے اور انہیں یقین دہائی کروائی کہ قانون سازی کی جارہی ہے وزیر اعظم نے بھی ہدایت کر دی ہے کہ احتجاج ختم کیا جائے تاہم لواحقین نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے احتجاج جاری رہے گا۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے متنازعہ ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مائیں پنجاب میں احتجاج کر سکتی ہیں یہاں کوئی ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولی نہیں مارے گا لیکن پنجاب کی ان ماؤں کے دکھ کا کیا کریں جن کے بچوں کو بسوں سے نکال کر صرف پنجابی ہونے پر بلوچستان میں چھلنی کی جاتا ہے؟ یہ تو کہیں کہ ظلم ظلم ہے اور خون کا رنگ پنجابیوں کا بھی لال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں