دنیا شاید کسی نئے نظام کی تلاش میں ہے
امریکی صدر جو بائیڈن اپنے پیشرو کے برعکس انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم سے انہوں نے چار ہفتوں بعد رابطہ کیا، حالانکہ ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی انگلی پکڑ کر چلنا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے۔ایران سے کئے گئے امریکی معاہدے سے دستبرداری اسی فرمانبرداری کا نتیجہ تھی۔ اسرائیلی دارالحکومت کو یروشلم منتقل کرنے کا متنازعہ فیصلہ تسلیم کرنے میں بھی انہوں نے بڑی بے صبری کا مظاہرہ کیا تھا۔اپنے اقتدار کے آخری ہفتوں میں انہوں نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ معاہدے کرائے، اس وقت یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بہت جلد دنیا ایک بہت بڑی خوشخبری سنے گی۔(غالباً وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا مذہبی لحاظ سے انتہائی مقدس سمجھا جانے والاالمملکۃالعربیۃ السعودیۃ بھی اس کار خیر میں شریک ہونے والا ہے) فی الحال یہ متوقع اعلان بوجوہ سامنے نہیں آسکا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے دستور سے159سال بعد بغاوت بلا سبب نہیں تھی۔اسرائیل پر اپنی بیمثال شفقت کی بناء پر انہیں یقین ہوگیا تھا اگلے چاربرس ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، بلکہ اگلے 8برسوں کے لئے کرسیئ صدارت پر اپنی بیٹی کو متمکن دیکھنے لگے تھے۔یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی،باپ بیٹا پہلے 8،8سال لگاتار امریکی صدر رہ چکے تھے۔ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا دونوں ایوانوں میں مسترد ہونے پرجو بائیڈن کے متأسفانہ ریمارکس سے بھی یہی جھلکتا ہے کہ امریکہ میں جمہوریت کمزور ہے۔آج کل امریکی دانشور اپنے آئین میں دو دفعات کی کمی کو بڑی شدت سے محسوس کر رہے ہیں،نیویارک ٹائمزجیسے اخبار میں مسلسل اس حوالے سے اظہار خیال کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔پہلی مرتبہ ان دو دفعات کی کمی کومحسوس کرنا اور انہیں آئین کا حصہ بنانے کی خواہش کے پیچھے سابق صدر کے مواخذے میں بچ جانا واحد بڑا سبب ہے۔مجوزہ دفعات درج ذیل ہیں:
اول: امریکی صدر کو قابل مواخذہ جرم میں سزا دی جائے؛
دوم: آئندہ اسے کوئی بھی وفاقی عہدہ رکھنے کے لئے نا اہل قرار دیا جائے۔
اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ امریکی دانشور 6جنوری2121کو ہل ٹاپ پر حملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دونوں دفعات کے تحت سزا دلوانے کی شدیدخواہش رکھتے ہیں۔وہ تویہاں تک کہتے ہیں کہ اگر انہیں مواخذے کے حامی سینیٹرز 1787میں دستور کی منظوری والے اجلاس(فلاڈیلفیا)میں شریک ہوتے تو یقینا مذکورہ دونوں دفعات آئین کا حصہ ہوتیں۔ قومیں اپنے تجربات سے سیکھتی ہیں،اپنی اصلاح کرتی ہیں۔طرز کہن پر اڑنے والی اقوام اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکیتیں۔علامہ اقبال اس راز سے واقف تھے اسی لئے انہوں نے کہا تھا:
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
جو بائیڈن دنیا کے اس ملک کے صدر ہیں جو طویل عرصے سے دنیا کی اکلوتی عالمی طاقت ہونے کی دعویدار ہے۔روس اپنی سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کا مد مقابل نہیں رہا، اپنے متعددداخلی مسائل میں پھنس گیا تھا۔اب کافی حد تک ان سے باہر نکل آیا ہے مگر چین اپنی حیرت انگیز معاشی ترقی کی بناء پر دوسری عالمی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی صدرجو بائیڈن اس تبدیلی اور اس کے مضمرات سے واقف ہیں۔اسی لئے ان کی خواہش ہے کہ باہمی مشاورت اور دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے نئے تناظر میں امریکہ کے لئے مناسب جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں۔انہیں تواقوام متحدہ بھی ماضی کے مقابلے میں مختلف مزاج کا ادارہ نظر آتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ ایک دولت کے نشے میں بدمست تاجر کی طرح اسے بھی امریکہ کا ماتحت ادارہ سمجھتے رہے،حتیٰ کہ اس کے فنڈز بھی روک دیئے تھے۔حالانکہ ترکی کے صدر طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ اقوام متحدہ بظاہر195ملکوں کا مشترکہ ادارہ ہے مگر اسے5ویٹو پاور رکھنے والے ملکوں نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کومذکورہ5ملکوں کی غلامی سے نکالا جائے۔یہی 5ملک نیٹو کاجھنڈا اٹھا کر جس ملک پر چاہتے ہیں فوج کشی کردیتے ہیں۔افغانستان سے نکلنے کاتحریری معاہدہ کرکے مختلف بہانوں کی آڑ میں مکر رہے ہیں۔جو بائیڈن دنیاکے تبدیل شدہ مزاج سے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ باخبر ہیں۔ اسی لئے جارحانہ انداز میں دنیا کو للکارنے کی بجائے دھیمے لہجے میں اپنا ممکنہ حد تک ہمنوا بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ایران سے پیدا شدہ تلخی کو دور کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ معاملہ باراک ابامہ کے دور میں جہاں چھوڑ کر گئے تھے،اس سے کہیں زیادہ الجھ چکا ہے۔قاسم سلیمانی اور ایٹمی سائنسدان کے قتل نے صورت حال کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ لیکن یہ بات طے شدہ سمجھی جائے کہ ڈونلڈٹرمپ والی سوچ کو دوبارہ طویل عرصے تک پذیرائی نہیں ملے گی۔ کم از کم 159سال انتظار کرنا پڑے گا۔ترقی پسند معاشی و سیاسی دانشور بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ سامراج سے اس وقت جان چھوٹے گی جب دنیا کے تمام ملک سیاسی و معاشی میدان میں ترقی کرکے خودانحصاری کی منزل طے کر لیں گے۔آج ان کی پیش گوئی 100 فیصد درست نظر آرہی ہے۔ترکی جیسا ملک ترقی کے بل پر دنیا بھر میں امریکہ کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر(بھارت) چین کے سامنے تنہا اپنے داخلی اور خارجی مسائل سلجھانے میں مصروف ہے، امریکہ اس کی کوئی مددکرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے کہ چین آج معاشی اور فوجی اعتبار سے جس مقام پر کھڑا ہے،امریکہ جانتا ہے کہ اس کی مخالفت کا کیا نتیجہ ہوگا۔دنیا 5ویٹو پاوررکھنے والے ملکوں کی غلامی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چیلنج کر چکی ہے۔دنیا ایک نئے جیو پولیٹیکل نظام کی تلاش میں ہے۔


